ملال نه کر
گیا جو ماہِ محرم تو کچھ ملال نہ کر..
غمِ حُســـــین کو پابندِ ماہو سال نہ کر..
کرے گا وقت اسے قید یہ خیال نہ کر..
یہ معاملے ہیں دلوں کے کوئی سوال نہ کر..
لگا کے سینے سے رکھ روز و شب اسی غم کو..
اور کبھی نہ کرنا جدا دل سے تم محرم کو..
اُٹھو سحر کی اذاں پر تو اکبرا کہہ کر..
پڑھو جو عصر تو یا راضی الرضا کہہ کر..
نماز شب ہو ادا واہ مصیبتا کہہ کر..
اور ہر ایک سانس چلے ہائے کربلا کہہ کر..
بجھاؤ پیاس تو آنکھوں میں اشک آجائے..
اور تصورات میں ننی مشک آجائے..
پیامِ حضرت شبیر ہو تیرا منشور..
اور اسی پیام سے عالم میں سچ ہوا منشور..
جھنجھوڑ کر یہ جگاتا ہے آدمی کا شعور..
خدا شناس کو ہے کربلا تجلی طور..
حُســـــین اپنے عمل میں قرآن ناطق ہے..
یہ وہ شہید ہے جس کا شہید خالق ہے
حُســـــین بن کے صداقت کی آبرو ہوجا..
کمالِ آئینہ حق کے روبرو ہوجا..
یزید عصر کی طاقت سے دوبدو ہوجا..
نگاہِ فاطمہ زہراء ع میں سرخرو ہوجا..
وفا شعار ہے تو ان کے نورعین سے کر..
لہو کا خُمس ادا ماتمِ حُســـــین سے کر..
حُســـــینیت کے قدم سے قدم ملائے ہوئے..
بُریداست وفا کا علم اُٹھائے ہوئے..
سنانے وقت پہ ظالم کا سر سجائے ہوئے..
بڑھے چلو کہ یہ رستے ہیں آزمائے ہوئے..
خُود اپنی ذات میں ایک انقلاب بن کے اُٹھو..
صدائے ینصرنا کا جواب بن کے اُٹھو..
تجھے ملیں گے زمانے میں بے شمار یزید لعنہ..
حُســـــینیت کے عباء پوش دعوے دار یزید لعنہ..
کہیں گدا کہیں مسجد کے عہدے دار یزید لعنہ..
یزید جو بھی جہاں ہو اُسے پکار یزید لعنہ..
علم بدست مقدر پہ اختیار لئے..
صفوں کو چیر دے ہاتھوں میں ذوالفقار لئے..
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں