چراغ ھدایت
اسلامی مطالعات ،کتابشناسی،تلخیص کتب ، مقالات و مضامین،شعر و ادب
بدھ، 20 دسمبر، 2017
منگل، 5 دسمبر، 2017
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*زنجیر زنی سے مرنے والے ننہے عزادار غلام علی کا قاتل کون؟*
علی پور مظفر گڑھ پنجاب کی ایک تحصیل ہے، اس سے تعلق رکھنے والا معصوم سا عزادار غلام علی کچھ دن قبل آٹھ ربیع الاول کو شہادت امام حسن عسکری (ع) کی مناسبت سے ہونے والی عزاداری میں الوداعی زنجیرزنی کرنے لگا جب خون زیادہ بہہ گیا تو یہ ننہا معصوم چکرا کر گر گیا. لوگوں نے جلدی قریبی ھسپتال پہنچایا مگر یہ عزادار شہید ہو چکا. یہ معصوم تھا، بچہ تھا یہ تو سمجھ نہیں سکا کہ وہ جو کر رہا ہے عبادت ہے یا نہیں لہٰذا وہ تو کم عقل بچہ تھا وہ تو ضرور جنت میں جائے گا.
لیکن!
ھر شہید کا ایک قاتل ہوتا ہمارے شیعوں کو سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی شہید کرتی ہے تو ہم احتجاج کرتے ہیں، یہ قتل کس نے کیا؟
قرآن کے بقول ایک انسانیت کا خون پوری انسانیت کا خون ہے تو یہ خون کس کے گلے میں؟؟
کس نے اس معصوم بچے اور اس کے والدین کو اس خونی ماتم کا اتنا ثواب بتایا؟
معصوم غلام علی کا قاتل کون؟
یہ وہ ہی لوگ ہیں جو حوزہ و منبر و سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ خونی ماتم کا ثواب بہت زیادہ ہے، اور عوام کو اکساتے ہیں اس کام پہ. بھائی اتنا زیادہ ہے تو آپ کے بچے اور آپ کیوں نہیں کرتے.؟؟؟
*آپ کا بیٹا زنجیر مار کر مرے تو پوچھوں گا کہ اولاد کیا چیز ہے....*
اب بہت چپ رہے ہم حد ہوگئی ...
غلام علی کا قاتل ہر وہ شخص ہے جو اس خونی رسم کی بڑھ چڑھ کر تبلیغ کرتا ہے.
💡 *بتی سوال*💡
میں آپ کے سر پر قرآن رکھ کر پوچھتا ہوں قرآن ... اور آپ کسی بھی عالم دین کے سر پر قرآن رکھ کر پوچھیں اگر ننہا عزادار غلام علی امــــام زمـــانہ (عج) کے سامنے کھڑے ہو کر خونی ماتم کرتے تو امام (عج) دیکھ کر خوش ہوتے کیا امام غلام علی سے زنجیر نہ چھینتے.؟؟؟
اگر آپ کا ضمیر کہتا ہے کہ امام خوش ہوتے تو آپ بری الذمہ ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں امام زمانہ (عج) ناراض ہوتے تو جان لیجئے خود آپ ہی یہ مانتے ہیں کہ جو بھی اس خونی ماتم کی تبلیغ کر رہا ہے وہ امام کو ناراض کر رہا ہے.
*چلــــــیں امام زمانہ (عج) کورٹ میں غلام علی کے قتل کا کیس داخل کریں*
اے ہمارے مولا و آقا! ہم اس معصوم غلام علی کی خون آلود لاش آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، اس معصوم کو وہ کام عظیم عبادت کہہ کر بتایا گیا کہ جو کام نہ آپ کے اجداد نے کبھی کیا نہ ان کے دور میں کسی شیعہ نے کیا. *اس عبادت کو مولویوں و خطیبوں نے عظیم عبادت کہا. بھلا ہم یہ کیسے مان لیں کہ شیعوں کی جان پیاری اور اہم سمجھتے ہوئے تقیہ کا حکم دینے والے آئمہ (ع) نے شیعہ کی جان خطرے میں ڈالنے والے چھریوں کے ماتم کو جائز کہا ہوگا.*
مولا! ہمارے ننہے عزادار غلام علی کا کیس آپ کی کورٹ میں ہے. غلام علی کا جوابدار ھر وہ مرجع، ہر وہ عالم، ھر وہ خطیب، ھر وہ ذاکر، ھر وہ شخص ہے جو اس خونی رسم کو عظیم عبادت کہہ کر اس کی بڑھ چڑھ کر تبلیغ کرتا ہے اور ہمارے معصوم و کم علم لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے.
🙏🏽🙏🏽🙏🏽
مومنو! یہ معصوم بچے کے قتل کا کیس ہے، اگر آپ میری پٹیشن سے متفق ہیں تو اس میسج فارورڈ کریں سمجھیں یہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں جا رہی ہے.
اگر آپ غلام علی کے قتل پہ خوش ہیں تو بیشک ہمارا ساتھ نہ دیں.
نوٹ: جو یہ کہتے ہیں کہ یہ بات جھوٹ ہے وہ مجھ سے رابطہ کریں میں غلام علی کے دادا جان اور علی پور کے علماء سے ان کی بات کروا سکتا ہوں.
*شیعہ کا قاتل دھشتگرد ہے چاہے چاہے اورنگزیب فاروقی ہو یا شیعہ مرجع و عالم وخطیب! قتل زبان سے ہو یا گولی سے, قتل قتل ہے.*
الاحقر محمد زکی حیدری
+923337467268
👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼
شہید غلام علی کی تصاویر
*زنجیر زنی سے مرنے والے ننہے عزادار غلام علی کا قاتل کون؟*
علی پور مظفر گڑھ پنجاب کی ایک تحصیل ہے، اس سے تعلق رکھنے والا معصوم سا عزادار غلام علی کچھ دن قبل آٹھ ربیع الاول کو شہادت امام حسن عسکری (ع) کی مناسبت سے ہونے والی عزاداری میں الوداعی زنجیرزنی کرنے لگا جب خون زیادہ بہہ گیا تو یہ ننہا معصوم چکرا کر گر گیا. لوگوں نے جلدی قریبی ھسپتال پہنچایا مگر یہ عزادار شہید ہو چکا. یہ معصوم تھا، بچہ تھا یہ تو سمجھ نہیں سکا کہ وہ جو کر رہا ہے عبادت ہے یا نہیں لہٰذا وہ تو کم عقل بچہ تھا وہ تو ضرور جنت میں جائے گا.
لیکن!
ھر شہید کا ایک قاتل ہوتا ہمارے شیعوں کو سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی شہید کرتی ہے تو ہم احتجاج کرتے ہیں، یہ قتل کس نے کیا؟
قرآن کے بقول ایک انسانیت کا خون پوری انسانیت کا خون ہے تو یہ خون کس کے گلے میں؟؟
کس نے اس معصوم بچے اور اس کے والدین کو اس خونی ماتم کا اتنا ثواب بتایا؟
معصوم غلام علی کا قاتل کون؟
یہ وہ ہی لوگ ہیں جو حوزہ و منبر و سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ خونی ماتم کا ثواب بہت زیادہ ہے، اور عوام کو اکساتے ہیں اس کام پہ. بھائی اتنا زیادہ ہے تو آپ کے بچے اور آپ کیوں نہیں کرتے.؟؟؟
*آپ کا بیٹا زنجیر مار کر مرے تو پوچھوں گا کہ اولاد کیا چیز ہے....*
اب بہت چپ رہے ہم حد ہوگئی ...
غلام علی کا قاتل ہر وہ شخص ہے جو اس خونی رسم کی بڑھ چڑھ کر تبلیغ کرتا ہے.
💡 *بتی سوال*💡
میں آپ کے سر پر قرآن رکھ کر پوچھتا ہوں قرآن ... اور آپ کسی بھی عالم دین کے سر پر قرآن رکھ کر پوچھیں اگر ننہا عزادار غلام علی امــــام زمـــانہ (عج) کے سامنے کھڑے ہو کر خونی ماتم کرتے تو امام (عج) دیکھ کر خوش ہوتے کیا امام غلام علی سے زنجیر نہ چھینتے.؟؟؟
اگر آپ کا ضمیر کہتا ہے کہ امام خوش ہوتے تو آپ بری الذمہ ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں امام زمانہ (عج) ناراض ہوتے تو جان لیجئے خود آپ ہی یہ مانتے ہیں کہ جو بھی اس خونی ماتم کی تبلیغ کر رہا ہے وہ امام کو ناراض کر رہا ہے.
*چلــــــیں امام زمانہ (عج) کورٹ میں غلام علی کے قتل کا کیس داخل کریں*
اے ہمارے مولا و آقا! ہم اس معصوم غلام علی کی خون آلود لاش آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، اس معصوم کو وہ کام عظیم عبادت کہہ کر بتایا گیا کہ جو کام نہ آپ کے اجداد نے کبھی کیا نہ ان کے دور میں کسی شیعہ نے کیا. *اس عبادت کو مولویوں و خطیبوں نے عظیم عبادت کہا. بھلا ہم یہ کیسے مان لیں کہ شیعوں کی جان پیاری اور اہم سمجھتے ہوئے تقیہ کا حکم دینے والے آئمہ (ع) نے شیعہ کی جان خطرے میں ڈالنے والے چھریوں کے ماتم کو جائز کہا ہوگا.*
مولا! ہمارے ننہے عزادار غلام علی کا کیس آپ کی کورٹ میں ہے. غلام علی کا جوابدار ھر وہ مرجع، ہر وہ عالم، ھر وہ خطیب، ھر وہ ذاکر، ھر وہ شخص ہے جو اس خونی رسم کو عظیم عبادت کہہ کر اس کی بڑھ چڑھ کر تبلیغ کرتا ہے اور ہمارے معصوم و کم علم لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے.
🙏🏽🙏🏽🙏🏽
مومنو! یہ معصوم بچے کے قتل کا کیس ہے، اگر آپ میری پٹیشن سے متفق ہیں تو اس میسج فارورڈ کریں سمجھیں یہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں جا رہی ہے.
اگر آپ غلام علی کے قتل پہ خوش ہیں تو بیشک ہمارا ساتھ نہ دیں.
نوٹ: جو یہ کہتے ہیں کہ یہ بات جھوٹ ہے وہ مجھ سے رابطہ کریں میں غلام علی کے دادا جان اور علی پور کے علماء سے ان کی بات کروا سکتا ہوں.
*شیعہ کا قاتل دھشتگرد ہے چاہے چاہے اورنگزیب فاروقی ہو یا شیعہ مرجع و عالم وخطیب! قتل زبان سے ہو یا گولی سے, قتل قتل ہے.*
الاحقر محمد زکی حیدری
+923337467268
👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼
شہید غلام علی کی تصاویر
ہفتہ، 2 دسمبر، 2017
۱۷
ربیع الاول
💐اخلاق و سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ پر طائرانہ نظر🌴
یوں تو سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت کوبیان کرنا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے چونکہ عقل ناقص، عقل کامل کو کس طرح درک کرسکتی ہے؟ آخر دریا کو ایک کوزہ میں سمانا چاہیں گے تو کس طرح سما سکتے ہیں،لیکن جو کچھ ناکام کوشش کی گئی ہے اسی کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
بعثت کا ہدف
جس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ''اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت'' حضور صلی اللہ علیہ و آلہ کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ''ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے''
جناب آدمؑ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔
عبادت
جناب ام سلمیٰ فرماتی ہیں :''ایک شب، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ میرے گھر تشریف فرماتھے، میں نے آدھی رات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ کے بستر مبارک کو خالی دیکھا، میں نے تلاش کرنے کے بعد دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ تاریکی میں کھڑے ہو ئے ہیں، دست مبارک عرش کی جانب بلند ہیں، چشم مبارک سے اشکوں کی برسات ہو رہی ہے اور دعا فر مارہے ہیں کہ ''پروردگار! جو نعمتیں تونے مجھے عطا کی ہیں انھیں مجھہ سے واپس نہ لینا ، میرے دشمنوں کوخوش نہ ہونے دینا، جن بلاؤں سے مجھے نجات دے چکا ہے ان میں دوبارہ گرفتار نہ کرنا، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی تنہا نہ چھوڑنا'' میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ! آپ تو پہلے ہی سے بخشش شدہ ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : '' نہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے کہ جو خداوندعالم کا محتاج نہ ہو اور اس سے بے نیاز ہو ، حضرت یونسؑ کو خداوندعالم نے صرف ایک لمحہ کے لئے تنہا چھوڑ دیا تھا تو آپؑ شکم ماہی (مچھلی کے پیٹ )میں زندانی ہو گئے''۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ کی نماز شب ہم کو یہ درس دیتی ہے کہ امت کے رہبر کو آرام طلب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کا پورا وجود محنت و زحمت کے سمندر میں غرق رہنا چاہیئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے مولا علیؑ کو نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے،آپ نے مکرر تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ''علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل'' یعنی! اے علیؑ! تم پر لازم ہے کہ نماز شب بجا لاؤ، نماز شب ضرور بجا لاؤ ،نماز شب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔
سادگی
ایک روز آپنے مولا علیؑ کو بارہ درہم دیئے اور فرمایا: ''میرے لئے ایک لباس خرید کر لے آؤ'' حضرت علیؑ بازار گئے اور بارہ درہم کا لباس خرید کر لے آئے ، حضورنے لباس کو دیکھا اور علیؑ سے فرمایا: ''اے علیؑ! اگر اس لباس سے سستا لباس مل جاتا تو بہتر تھا اگر ابھی دوکاندار موجود ہو تو یہ لباس واپس کردو'' علیؑ دوبارہ بازار گئے اور لباس واپس کردیا اور بارہ درہم واپس لاکر آپ ؐکے حوالہ کر دیئے۔
حضرتؐ مولاعلیؑ کو اپنے ہمراہ لے کر بازار کی جانب روانہ ہوئے، راستہ میں ایک کنیز پر نظر پڑی کہ جو گریہ کر رہی تھی، آپؐ نے سبب دریافت کیا تو کنیز نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے چار درہم دیئے تھے کہ کچھ سامان خرید کر لے جاؤں لیکن وہ چار درہم گم ہو گئے، اب گھر واپس جاؤں تو کس طرح؟
آپؐ نے اپنے بارہ درہموں میں سے چار درہم اس کنیز کو عطا کئے کہ وہ سامان خرید کر لے جائے اور بازار پہونچکر چار درہم کا لباس خریدا، لباس لے کر بازار سے واپس آرہے تھے تو ایک برہنہ تن انسان پر نظر پڑ گئی، آپؐ نے وہ لباس اس برہنہ تن کو بخش دیا اور پھر بازار کی جانب چلے، بازار پہونچکر باقی بچے ہوئے چار درہموں کا لباس خریدا ، لباس لیکر بیت الشرف کا قصد تھا کہ دوبارہ پھر وہی کنیز نظر آگئی جو پہلے ملی تھی، آپؐ نے دریافت کیا کہ اب کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کافی دیر ہو چکی ہے، میں ڈر رہی ہوں کہ کیسے جاؤں، آقا کی سرزنش سے کیسے بچوں؟
حضورؐ کنیز کے ہمراہ اس کے گھر تک تشریف لے گئے، اس کنیز کے آقا نے جب یہ دیکھا کہ میری کنیز ، سرکار رسالتؐ کی حفاظت میں آئی ہے تو اس نے کنیز کو معاف کردیا اور اسے آزاد کردیا، آپؐ نے فرمایا:
'' کتنی برکت تھی ان بارہ درہموں میں کہ دو برہنہ تن انسانوں کو لباس پہنا دیا اور ایک کنیز کو آزاد کرادیا''
دور حاضر میں ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ مزین تھے، دور حاضر تو کیا خود حضورؐ کے دور میں، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانا دشوار ہے، آپؐ کے دور میں تو بعض بدو عرب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھہ سمجھتے تھے، واقعاً اگر آج کے امراء ورؤوسا بھی اس سیرت کو اپنائیں تو ہماری کشتی حیات، (دین اسلام اور شریعت کے مطابق)منزل مقصود سے ہمکنار ہوجائے۔
مہمان نوازی
ایک روز حضورؐ کی خدمت میں آپؐ کے دو رضاعی بھائی بہن یکے بعد دیگرے آئے، آپؐ نے بہن کا احترام زیادہ کیا اور بھائی کا احترام کم کیا، بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا: ''چونکہ، جتنا احترام اپنے ماں باپ کا یہ بہن کرتی ہے اتنا احترام بھائی نہیں کرتا لہٰذا میں بھی بہن کا زیادہ احترام کرتا ہوں''
دلسوزی
کشاف الحقائق، مصحف ناطق، حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: ''ایک روز آپؐ نے نماز ظہر کی آخری دو رکعتیں بہت جلدی جلدی ادا کیں، لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہؐ! آخر ایسا کیوں؟ کیا کام درپیش ہے؟ حضورؐ نے فرمایا: ''کیا تم بچہ کے رونے کی آواز نہیں سن رہے ہو؟''
اللہ اکبر... نماز جیسی عبادت، جس میں خضوع و خشوع شرط ہے، آپؐ نے بغیر مستحبات کے انجام دی اور یہ سمجھا دیا کہ دیکھو... بچہ کو بہلانا خضوع و خشوع والی نماز سے بھی افضل ہے۔
اہل خانہ کے ساتھ
جناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں :کبھی کبھی حضورؐ، خدیجہ کو بہت اچھی طرح یاد فرماتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے ، میں نے ایک روزحضورؐ سے کہا : یا رسول اللہؐ! خدا نے آپ کو خدیجہ سے بہتر بیوی(دوشیزہ) عطا کی ہے، انھیں بھول جائیئے وہ تو بڑھیا تھیں۔
حضورؐ نے فرمایا: خدا کی قسم ایسا نہیں ہے ، خدیجہ جیسی کوئی بیوی نہیں ہو سکتی۔ جس وقت پورا معاشرہ کافر تھا ، اس عالم میں یہ تنہا خاتون تھی جو مجھ پر ایمان لائی تھی اور میری مدد گار ثابت ہوئی تھی ، میری نسل تو خدیجہ سے ہی چلی ہے۔
جناب خدیجہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ یہ وہ خاتون تھیں کہ جنھوں نے اپنا رشتہ خود حضورؐ کی خدمت میں بھیجا تھا اوردیگر رشتوں سے انکار کر دیا تھا جب کہ وہ لوگ خود اپنے رشتے لے کر آئے تھے۔
تبلیغ
آپؐ نے تین سال تک پوشیدہ طور پر تبلیغ کی یہاں تک کہ حکم خدا وندی نازل ہوا (فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین)، یعنی اے رسول! جن کاموں پر تمھیں مامور کیا گیا ہے انھیں آشکار کردو اور مشرکین سے پرہیز کرو(ان پر بھروسہ نہ کرو) ہم تمھیں ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔
حضورؐ کوہ صفا کے دامن میں خانۂ کعبہ کے کنارے تشریف لائے اور اعلان عام کردیا اور فرمایا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرلوگے تو دنیاوی حکومت و عزت اور آخرت، سب تمہارا ہے لیکن لوگوں نے آپؐ کا مذاق اڑایا اور جناب ابوطالبؑ کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے نو جوانوں کو گمراہ کر رہا ہے، اس سے پو چھئے کہ وہ کیاچاہتا ہے؟ اگر اسے دولت چاہیئے تو ہم دولت دینے کو تیار ہیں، اگر عورت درکار ہے تو ہم عورت دینے کو تیار ہیں، اگر منزلت کا خواہاں ہے تو منزلت بھی دیدیں گے، جناب ابوطالبؑ نے یہ بات رسول اسلامؐ کو بتائی، رسول اسلامؐ نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر آفتاب اور دوسرے ہاتھ پر ماہتاب بھی رکھ دیں تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں آسکتا، کفار نے جناب ابو طالبؑ سے چاہا کہ محمدؐ کو ان کے حوالے کردیں لیکن جناب ابوطالبؑ نے قبول نہیں کیا۔
اس عمل کے ذریعہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ نے ہمیں تبلیغ کا طریقۂ کار بتایا ہے کہ تبلیغ کتنی اہم شئے کا نام ہے؟ چند ڈالر کے عوض اپنے نفس کو بیچ دینے کا نام تبلیغ نہیں ہے بلکہ اگر چاند سورج بھی دے دیئے جائیں تو اس کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیئے چونکہ اسی سے دین و شریعت کی ترویج ہوتی ہے، بار الٰہا! ہمیں حضورؐ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرما۔....
قرآن + محمد و آل محمد علیهم السلام:
Follow this link to join ISLAMIC WhatsApp group AND make members ur friends in this group : https://chat.whatsapp.com/374NB1HeqmqEiVxihkbhip
🌷 اللهم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجهم🌷
جمعرات، 30 نومبر، 2017
*10 ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭّﻝ ، ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺹ ﮐﯽ ﺟﻨﺎﺏِ ﺧﺪﯾﺠۃﺍﻟﮑﺒﺮﯼ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﺎ ﺳﮯ ﺗﺰﻭﯾﺞ*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﺘﮧ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼٰ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ، ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺍﺻﯿﻞ ﻭ ﺷﺮﯾﻒ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ تشریف لاﺋﯿﮟ ـ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﻋﺎﻡ ﺍﻟﻔﯿﻞ ﺳﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺫﮐﺮ ﮬﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ـ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺧﻮﯾﻠﺪ ﺍﺑﻦ ﺍﺳﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﯼ ﺑﻦ ﻗﺼﯽ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺸﻤﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ـ* *ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺯﺍﺋﺪﮦ ﺑﻦ ﺭﻭﺍﺣﮧ ﮬﯿﮟ (۴)*
*ﺁﭖ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺪﺍﮐﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﯾﺪﺍﺭ ﺗﮭﮯ ـ*
*ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﯾﻤﻦ ” ﺗﺒﻊ “ ﻧﮯ ﺣﺠﺮ ﺍﺳﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺳﮯﯾﻤﻦ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺻﺪﺍﺋﮯ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭﮬﻮﮐﺮ ” ﺗﺒﻊ “ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺳﮯ ﻣﻨﺤﺮﻑ ﮬﻮ ﻧﺎ ﭘﮍﺍـ*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﮯ ﺟﺪ ﺍﺳﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯼ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﺣﻠﻒ ﺍﻟﻔﻀﻮﻝ ﮐﮯﺍﯾﮏ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﺭﮐﻦ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﺑﺎ ﺻﻔﺎ ﻭ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺧﻮﺍﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﻋﮭﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻈﻠﻮﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺹ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ ( ۶ )*
*” ﻭﺭﻗﮧ ﺑﻦ ﻧﻮﻓﻞ “* *( ﺣﻀﺮﺕﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ) ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺸﻤﻨﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﻮ ﭼﻨﺪﯾﻦ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺘﺐ ﻋﮭﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺧﺒﺮ ﺩﺍﺭ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺹ ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﮐﮯﻧﺒﯽ ﮬﯿﮟ ـ ( ۸ )*
*ﺧﻼﺻﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﻤﺮﺗﺒﺖ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯﺍﻓﺮﺍﺩ ، ﻣﺘﻔﮑﺮ ، ﺩﺍﻧﺸﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺍﺑﺮﺍﮬﯿﻢ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﺗﮭﮯ ـ*
*ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻋﺎﻃﻔﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺩﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎ ﻭ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻓﻖ ﻭﺩﺍﻧﺸﻤﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﺁﻣﯿﺰﺵ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕﮐﻮ ﺑﻄﺮﯾﻘﮧ ﺍﺣﺴﻦ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺘﻔﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺮﮎ ﺫﮬﻦ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﻮ ﺭﻭﺯ ﺍﻓﺰﻭﮞ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ـ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺑﺎﺗﺠﺮﺑﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﻭﮐﻨﺎﺭ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ* *ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ*
*” ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﻧﭧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﺎﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻣﺼﺮ ، ﺷﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺣﺒﺸﮧ ﺟﯿﺴﮯﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺗﮭﮯ “ ( ۹ )*
*ﺟﻦ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺛﺮﻭﺕ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ـ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮﻣﻮﻗﻮﻑ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺑﯿﺮﻭﻥ ﻣﮑﮧ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺟﺮﺕ ﭘﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺘﻤﯽ ﻣﺮﺗﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ، ﺷﺮﺍﻓﺖ ، ﺍﻭ ﺭﺩﯾﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﺍﺛﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮬﻢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﺍﺩ ﮬﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟﮬﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻔﻊ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺷﺮﯾﮏ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ـ ( ۱۰ ) ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺟﺮﺕ ﭘﺮﮐﺎﺭﻭﺍﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ـ ( ۱۱ )*
*ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽﮐﮯ ﺍﺟﯿﺮ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺋﮯ ـ ( ۱۲ )*
*ﺑﮭﺮ ﮐﯿﻒ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺎﺭﻭﺍﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﺷﺎﻡ ﮬﻮﺋﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﻣﯿﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ـ( ۱۳ )*
*ﺑﯿﻦ ﺭﺍﮦ ﺁﭖ ﺹ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﻣﺎﺕ ﺳﺮﺯﺩ ﮬﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮬﺐ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟﻋﻼﺋﻢ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺸﺎﮬﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ” ﻣﯿﺴﺮﮦ “ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﯽﺧﺒﺮ ﺩﯼ ـ ( ۱۴ )*
*ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺎﺟﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻔﻊ ﮬﻮﺍ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﻣﮑﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﮬﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻔﻊ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺧﻮﺩ پیغمبرﺍﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺵﺣﺎﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﯿﺴﺮﮦ ( ﻏﻼﻡ ﺧﺪﯾﺠﮧ ) ﻧﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺌﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺁﻥﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﻭ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮬﻮﮔﺌﯿﮟ ـ*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﺸﻨﺪﮦ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﮩﻠﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﺂﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺰﻭﯾﺞ ﮬﮯ ـ*
*ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺫﮐﺮ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ*
*” ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻭ ﺍﮐﻨﺎﻑ ﻣﯿﮟﭘﮭﯿﻠﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﺷﮩﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺎ ﭘﺮﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﻃﺒﻘﮧ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﭘﯿﻐﺎﻡﺍﺯﺩﻭﺍﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮬﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ” ﻃﺎﮬﺮﻩ “ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺎﮐﺪﺍﻣﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻔﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺩﮮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ـ*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻌﻔﺮ ﻣﺮﺗﻀﯽٰ ﻋﺎﻣﻠﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ*
*” ﻭﻟﻘﺪ ﮐﺎﻧﺖ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﻦ ﺧﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ﺍﻟﻘﺮﯾﺶ ﺷﺮﻓﺎﻭﺍﮐﺜﺮ ﮬﻦ ﻣﺎﻻ ﻭﺍﺣﺴﻨﮭﻦ ﺟﻤﺎﻻ ﻭﯾﻘﺎﻝ ﻟﮭﺎ ﺳﯿﺪﺓﺍﻟﻘﺮﯾﺶ ﻭﮐﻞ ﻗﻮﻣﮭﺎﮐﺎﻥ ﺣﺮﯾﺼﺎ ً ﻋﻠﯽ ﺍﻻﻗﺘﺮﺍﻥ ﺑﮭﺎ ﻟﻮ ﯾﻘﺪﺭ ﻋﻠﯿﮭﺎ ''*
*( ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ ﻣﻦ ﺳﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺍﻻﻋﻈﻢ ﺝ ۲ / ﺹ ۱۰۷ )*
*” ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻑ ﻭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ، ﺩﻭﻟﺖ ﻭﺛﺮﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻭ ﺑﺎﻻ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮦ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﮬﺮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺁﭖﺳﮯ ﺭﺷﺘﺌﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺝ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﮬﺎﮞ ﺗﮭﺎ “*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﻮ ﺣﺒﺎﻟﺌﮧ ﻋﻘﺪ ﻣﯿﮟ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺘﻤﻨﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ” ﻋﻘﺒﮧﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻣﻌﯿﻂ “ ” ﺻﻠﺖ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﯾﻌﺎﺏ “ ” ﺍﺑﻮﺟﮭﻞ “ ﺍﻭﺭ ” ﺍﺑﻮ ﺳﻔﯿﺎﻥ “ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﻮﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﻭﻟﺘﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺣﯿﺜﯿﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟﺷﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽﺍﺻﺎﻟﺖ ﻭﻧﺠﺎﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﺫﺍﺗﯽ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺛﺮﻭﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮔﮭﺮﯼ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﺯﺩﻭﺍﺝ ﮐﮯ ﻣﺘﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮﺑﮍﮮ ﻣﮭﺮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮬﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ ، ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺝ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ـ*
*ﮐﺴﯽ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﺻﺤﺮﺍﺀ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺗﮭﺎـ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻋﺮﺏ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﻭ ﺩﯾﺎﻧﺖ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﻭﺍﻧﺤﺮﺍﻓﺎﺕ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﺥ ﮐﺮﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻭ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﯽﺷﮑﻞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺧﻮﺩ ﺑﺎﻋﻈﻤﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺬﺍﺭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯﮐﺴﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮬﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺰ ﻭ ﺷﺮﻑ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﯾﮏﺍﮬﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻞ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺗﮭﺎ ، ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺻﺪﻕ ﻭ ﺻﻔﺎ ﮐﺎﻓﻘﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﭨﮭﮩﺮ ﮔﺌﯽ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﻭ ﺩﯾﺎﻧﺖ ﮐﺎ ﺷﮭﺮﮦ ﺗﮭﺎ ،*
*ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﻧﮯ ﮐﻢ ﻇﺮﻑ ﺻﺎﺣﺒﺎﻥ ﺩﻭﻟﺖ ﻭ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟﺍﻋﻠﯽ ﻇﺮﻑ ، ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺷﺮﺍﻓﺖ ﻭ ﺩﯾﺎﻧﺖ ﺍﻭﺭﻋﻈﯿﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺹ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺑﻈﺎﮬﺮ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺖ ، ﯾﺘﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺳﮭﺎﺭﺍ ﺗﮭﮯ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﺱ ﻋﻤﻞ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﻟﺖ ﻭ ﺷﮭﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﻓﺖ ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻮﺋﯽﺣﯿﺜﯿﺖ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﮯـ*
*ﺍﻟﻤﺨﺘﺼﺮ ﺑﺮﺳﺮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ” ﺧﺪﯾﺠﮧ “ ﻧﮯ ﺑﺎﮐﻤﺎﻝ ﺷﻮﻕ ، ﺧﻮﺩ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻋﻘﺪ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ع ﻧﮯ ﺧﻄﺒﺌﮧ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :*
*ﻟﻮﮔﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮬﻨﺎ ! ” ﺧﺪﯾﺠﮧ “ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ''*
*ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ - ﯾﺎﻋﺠﺒﺎﮪ ! ﺍﻟﻤﮭﺮ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ ﻟﻠﺮﺟﻞ ''*
*( ﺗﻌﺠﺐ ﮬﮯ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﮭﺮ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﺮﮮ )*
*ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮭﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻏﻀﺐ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ،*
*” ﺍﺫﺍﮐﺎﻧﻮﺍ ﻣﺜﻞ ﺍﺑﻦ ﺍﺧﯽ ﮬﺬﺍﻃﻠﺒﺖ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﺑﺎﻏﻠﯽ ﺍﻻﺛﻤﺎﻥ ﻭﺍﻥ ﮐﺎﻧﻮﺍ ﺍﻣﺜﺎﻟﮑﻢ ﻟﻢ ﯾﺰﻭﺟﻮﺍ ﺍﻻﺑﺎﻟﻤﮭﺮ ﺍﻟﻔﺎﻟﯽ “*
*( ﺍﮔﺮﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮬﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻣﮭﺮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﻨﮕﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﮬﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺧﻮﺩ ﮔﺮﺍﮞ ﻭ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻣﮭﺮ ﺩﯾﮑﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎﮬﻮﮔﯽ ) -*
*ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎﻣﮭﺮ ( ﺟﻮ ﺑﯿﺲ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻧﻘﻞ ﮬﻮﺍﮬﮯ ) ﺧﻮﺩ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﮭﺮ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ، آنحضرت ﮐﯽ حیات ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ۲۵ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ حیات ﻣﯿﮟ ﺗﺰﻭﯾﺞ ﮐﯽﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﯽ حیات ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻭﺍﺭﺩ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ۲۵ ، ۲۸ ، ۳۰ ﺍﻭﺭ ٤٠ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺑﮩﺖ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻭﺍﺭﺩ ﮬﻮﺋﯽ ﮬﯿﮟ -*
*ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧﻋﻠﯿﮭﺎ ﺳﮯ ﺗﺰﻭﯾﺞ ٩ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ١٠ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﺋﯽ -*
*٩ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﻋﯿﺪ ﺯﮨﺮﺍ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﺰﻭﯾﺞ په ﻣﺴﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ -*
*ـ۴ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺝ / ۱ ﺹ ۸۸ /*
*ـ۵ ﺳﯿﺮﺓ ﮬﺸﺎﻡ ﺝ / ۴ ﺹ / ۲۸۱ ، ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﺝ / ۴ ﺹ / ،۲۸۱ ﻃﺒﺮﯼ ﺝ / ۳ ﺹ ۳۳ /*
*۶ ـﺎﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ۲۶۲*
*ـ۷ ﺳﯿﺮﺓ ﺣﻠﯿﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ، ۱۳۱ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺝ / ۱ ﺹ / ، ۸۶*
*ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻭ ﺳﯿﺮﺗﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ۶۰*
*ـ۸ ﺳﯿﺮﺓ ﮬﺸﺎﻡ ﺝ / ۱ ﺹ ۲۵۹ /*
*ـ۹ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ۳۶۲ ، ﺳﯿﺮﺓ ﮬﺸﺎﻡ ﺝ / ۱ ﺹ / ۳۳۸*
*ـ۱۰ ﺑﺤﺎﺭ ﺝ / ۱۶ ﺹ / ۲۲*
*ـ۱۱ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ ۲۵۸ /*
*ـ۱۲ ﺍﻟﺒﺪﺀ ﻭ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺝ / ۲ ﺹ / ۴۷*
*ـ۱۳ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﯾﻌﻘﻮﺑﯽ ﺝ / ۱ ﺹ ۳۷۶ /*
*ـ۱۴ ﺑﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ۳۵۸ ، ﻃﺒﺮﯼ ﺝ ۲ / ﺹ / ۲۰۴*
*ـ۱۵ ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ﻓﯽ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺝ / ۱ ﺹ / ۴۷۲ ، ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻟﻨﺒﻮﺓ ﺝ / ۲ ﺹ / ۶۶*
*ـ۱۶ ﺳﯿﺮﺓ ﺣﻠﺒﯿﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ، ۱۳۵ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ ، ۳۵۸ /*
*ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ﻓﯽ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺝ / ۱ ﺹ ۴۷۲ /*
*ـ۱۷ ﺍﻟﺴﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻮﯾﮧ ( ﺩﺣﻼﻥ ) ﺝ / ۱ ﺹ / ۹۲*
*ـ۱۸ ﺑﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ،۳۵۸ ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﺝ / ۱۶ ﺹ / ۲۲*
*ـ۱۹ ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﺝ / ۱۶ ﺹ / ۲۲*
*ـ۲۰ ﺳﯿﺮﺓ ﺣﻠﺒﯿﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ۱۴۰ ، ﻃﺒﺮﯼ ﺝ / ۲ ﺹ / ۲۰۵*
*ـ۲۱ ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ ﻣﻦ ﺳﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺝ / ۲ ﺹ / ۱۱۲ ۱۱۳ـ ، ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﺝ ۱۶ / ﺹ ۱۴ /*
*ـ۲۲ ﺳﯿﺮﮦ ﮬﺸﺎﻡ ﺝ / ۱ ﺹ ۲۲۷*
*ـ۲۳ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮭﺎﯾﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ۳۶۰ ، ﺍﻟﺒﺪﺀ ﻭ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺝ / ۲ ﺹ / ۴۸*
*ـ۲۴ ﺳﯿﺮﮦ ﺣﻠﺒﯿﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ،۱۴۰ ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ ﻣﻦ ﺳﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺍﻻﻋﻈﻢ ﺝ ۲ / ﺹ / ۱۱۵*
*ـ۲۵ ﻓﺮﻭﻍ ﺍﺑﺪﯾﺖ ﺝ / ۱ ﺹ / ۱۹۸*
*ـ۲۶ ﺳﯿﺮﮦ ﺣﻠﺒﯿﮧ ﺝ / ۱ ﺹ / ۱۴۰*
*ـ۲۷ ﻃﺒﺮﯼ ﺝ / ۳ ﺹ / ۳۶*
*۲۸ ـﻤﻨﺎﻗﺐ ﺁﻝ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﺝ / ۱ ﺹ ۲۰۶ / ، ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ ﻣﻦ ﺳﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ*
*ﺍﻻﻋﻈﻢ ﺝ / ۲ ﺹ / ۱۲۲*
*ـ۲۹ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺁﻝ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﺝ / ۱ ﺹ / ۲۶*
*ـ۳۰ ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﺝ / ۱ ﺹ ۲۹۳ /*
*ـ۳۱ ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﺝ / ۴ ﺹ* *۳۳۵ / ، ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ ﺝ / ۵ ﺹ / ، ۴۸۱ ﺣﯿﺎﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺝ ۱ / ﺹ / ۱۲۱*
*ـ۳۲ ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ ﻣﻦ ﺳﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺍﻻﻋﻈﻢ ﺝ / ۲ ﺹ ۱۲۵*
*ـ۳۳ ﺍﻻﻧﺴﺎﺏ ﺍﻻﺷﺮﺍﻑ ﺝ / ۲ ﺹ / ۲۳ ، ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﺝ / ۸ ﺹ ۹۹ / ، ﺳﯿﺮﺓﮬﺸﺎﻡ ﺝ / ۱ ﺹ / ،۲۷۷ ﻃﺒﺮﯼ ﺝ / ۲ ﺹ ۲۳۲ / ـ ۲۲۱*
*ـ۳۴ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ﺝ / ۲ ﺹ ۲۳۲ /*
*ـ۳۵ ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﺝ / ۱۶ ﺹ / ، ۱۲ ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ ﺝ / ۲ ﺹ / ۴۳۹*
*ـ۳۶ ﻧﮭﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ ( ﺧﻄﺒﮧ ﻗﺎﺻﻌﮧ )*
*ـ۳۷ ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ ﺝ / ۵ ﺹ / ۴۳۴*
*ـ۳۸ ﺍﻟﺒﺪﺀ ﻭ ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺝ / ۲ ﺹ / ، ۴۸ ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ ﺝ / ۵ ﺹ / ۳۶۰*
*ـ۳۹ ﺍﻻﺻﺎﺑﮧ ﺝ / ۸ ﺹ / ۱۰۱ ، ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ ﺝ / ۵ ﺹ / ۴۳۱ ، ﺳﻨﻦ ﺗﺮﻣﺬﯼﮐﺘﺎﺏ ﻣﻨﺎﻗﺐ / ـ۳۸۸۶*
*ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﻦِ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺮ*
*ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺑﻨﯽ*
*ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻣﯿﮟ*
*ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻝ ﺹ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺣﺮﻡ ﺑﻨﯽ*
*ﺗﺰﻭﯾﺞ ﺟﻨﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺹ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮦ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼٰ ﺱ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ، ﺑﻠﺨﺼﻮﺹ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻋﺞ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.*
*ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮏ ﯾﺎ ﺍﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ*
*اللَّهُمَّ لَعَن قَتَلتَ الحسين۴ و اولادالحسين۴ و اصحاب الحسين۴ و انصار الحسين ۴*
*اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجہم ،*
*اللهم عجل لولیک الفرج*
*Broadcast Service: +92 331 3484627*
*https://www.facebook.com/aliwalaynetwork*
*علی والے نیٹ ورک*
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*غالی عقل سے خالی*
غالی نے اعتراض کیا ہے کہ توضیح المسائل پرانے دور میں نہیں تھی تو اب کیوں، پھر لکھتا ہے فلاں فقیہ نے توضیح نہ لکھی فلاں نے نہیں تو آج کل کے مراجع کیوں لکھتے ہیں؟
جواب:
شروعاتی صدیوں میں توضیح المسائل اس شکل و صورت میں بیشک نہیں تھی جس طرح آج ہے کیونکہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، عوام میں اکا دکا بندہ ہی پڑھا لکھا نظر آتا تھا. سو عوام چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو زیادہ تر گفتگو کے ذریعے ہی سوال جواب کا سلسلہ ہوتا. خط و کتابت بس علماء کے ہی بس کی بات تھی.
لیکن فقہی رسالے مخلتف روایات کے نسخوں کی صورت میں دستہ بند موجود تھے، ھر دستے کو "اصـــــل" کہا جاتا تھا. علماء ان سے استفادہ کرتے تھے.
اس کے بعد شیخ مفید (علیہ رحمہ) (متوفی ۴۱۳) نے "الــمــــــقنعہ" لکھی اور پہلی بار شیعوں کو ایک ایسی فقہی کتاب ملی جس میں آئمہ (ع) روایات نہیں تھی اور مسائل کا جواب فتووں کی صورت میں تھا. جیسے کے قبلے رخ کا تعین، مجبوری میں نجس پانی پینا وغیرہ. یہ کتاب باعث بنی کے عوام کے مسائل کا آسان حل پیش کیا جا سکے.
اس کے بعد شیخ طوسی (علیہ رحمہ) نے بھی اسی طرز پر اپنی کتاب "النــــــھایہ" لکھی جو فقہی مسائل کے جوابات پر مبنی تھی. اس کے بعد اسی بزرگوار نے "المــــبسوط" بھی لکھی.
شیخ طوسی (رض) کے انتقال اور حوزہ علمیہ بغداد کے سقوط کے دو صدیاں بعد حلہ کے حوزہ میں فقہ تشیع نے زور پکڑا اور اس کے بعد فقہ امامی ترقی کرتی کرتی نجف و اصفہاں کے حوزہ ھائے علمیہ سے ہوتی قم کے حوزہ علمیہ تک پہنچی. یہاں شیخ بہائی کی "جامع عباسی" کو پہلی توضیح المسائل کہا جا سکتا ہے. اس کے بعد آیت اللہ بروجردی (رض) کے دور میں علامہ کرباسچیان نے باقائدہ طور پر توضیح المسائل مرتب کی اور آیت اللہ بروجردی (رض) کی اجازت سے چھپوائی.
فقہ وہ واحد علم کی شاخ ہے جس نے اتنا مسلسل اور کٹھن سفر طے کیا ہے. اتنی کتب کسی موضوع پر نہیں جتنی فقہ پر ہیں اور مسلسل علماء و فقہاء نے عوام کے مسائل کا حل بتا کر ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی.
آج جب ہمارا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے تو فقہی مسائل کے حل کیلئے ایک جامع کتاب بنام توضیح المسائل یا استفتات کے جوابات مختلف زبانوں میں چھپوا کر عوام کی دہلیز تک پہنچانا ممکن ہے تو اس کی مخالفت صرف و صرف ایک کوڑہ مغز انسان ہی کر سکتا ہے اور پاک و ہند میں یہ کوڑہ مغز موجود ہیں اس لیئے سوال کرتے ہیں شیخ مفید کے دور میں تو ضیح المسائل کیوں نہیں تھی، شیخ کلینی کے دور میں توضیح کیوں نہیں تھی.
💡💡 *بتی نکتہ* 💡💡
غالی عقل سے خالی اگر تمہارا معیار یہ ہی ہے کہ ہر وہ چیز لینی ہےبسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*غالی عقل سے خالی*
غالی نے اعتراض کیا ہے کہ توضیح المسائل پرانے دور میں نہیں تھی تو اب کیوں، پھر لکھتا ہے فلاں فقیہ نے توضیح نہ لکھی فلاں نے نہیں تو آج کل کے مراجع کیوں لکھتے ہیں؟
جواب:
شروعاتی صدیوں میں توضیح المسائل اس شکل و صورت میں بیشک نہیں تھی جس طرح آج ہے کیونکہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، عوام میں اکا دکا بندہ ہی پڑھا لکھا نظر آتا تھا. سو عوام چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو زیادہ تر گفتگو کے ذریعے ہی سوال جواب کا سلسلہ ہوتا. خط و کتابت بس علماء کے ہی بس کی بات تھی.
لیکن فقہی رسالے مخلتف روایات کے نسخوں کی صورت میں دستہ بند موجود تھے، ھر دستے کو "اصـــــل" کہا جاتا تھا. علماء ان سے استفادہ کرتے تھے.
اس کے بعد شیخ مفید (علیہ رحمہ) (متوفی ۴۱۳) نے "الــمــــــقنعہ" لکھی اور پہلی بار شیعوں کو ایک ایسی فقہی کتاب ملی جس میں آئمہ (ع) روایات نہیں تھی اور مسائل کا جواب فتووں کی صورت میں تھا. جیسے کے قبلے رخ کا تعین، مجبوری میں نجس پانی پینا وغیرہ. یہ کتاب باعث بنی کے عوام کے مسائل کا آسان حل پیش کیا جا سکے.
اس کے بعد شیخ طوسی (علیہ رحمہ) نے بھی اسی طرز پر اپنی کتاب "النــــــھایہ" لکھی جو فقہی مسائل کے جوابات پر مبنی تھی. اس کے بعد اسی بزرگوار نے "المــــبسوط" بھی لکھی.
شیخ طوسی (رض) کے انتقال اور حوزہ علمیہ بغداد کے سقوط کے دو صدیاں بعد حلہ کے حوزہ میں فقہ تشیع نے زور پکڑا اور اس کے بعد فقہ امامی ترقی کرتی کرتی نجف و اصفہاں کے حوزہ ھائے علمیہ سے ہوتی قم کے حوزہ علمیہ تک پہنچی. یہاں شیخ بہائی کی "جامع عباسی" کو پہلی توضیح المسائل کہا جا سکتا ہے. اس کے بعد آیت اللہ بروجردی (رض) کے دور میں علامہ کرباسچیان نے باقائدہ طور پر توضیح المسائل مرتب کی اور آیت اللہ بروجردی (رض) کی اجازت سے چھپوائی.
فقہ وہ واحد علم کی شاخ ہے جس نے اتنا مسلسل اور کٹھن سفر طے کیا ہے. اتنی کتب کسی موضوع پر نہیں جتنی فقہ پر ہیں اور مسلسل علماء و فقہاء نے عوام کے مسائل کا حل بتا کر ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی.
آج جب ہمارا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے تو فقہی مسائل کے حل کیلئے ایک جامع کتاب بنام توضیح المسائل یا استفتات کے جوابات مختلف زبانوں میں چھپوا کر عوام کی دہلیز تک پہنچانا ممکن ہے تو اس کی مخالفت صرف و صرف ایک کوڑہ مغز انسان ہی کر سکتا ہے اور پاک و ہند میں یہ کوڑہ مغز موجود ہیں اس لیئے سوال کرتے ہیں شیخ مفید کے دور میں تو ضیح المسائل کیوں نہیں تھی، شیخ کلینی کے دور میں توضیح کیوں نہیں تھی.
💡💡 *بتی نکتہ* 💡💡
غالی عقل سے خالی اگر تمہارا معیار یہ ہی ہے کہ ہر وہ چیز لینی ہے جو آئمہ علیہم السلام کے دور میں تھی یا کسی عالم کے دور میں تو آپ کے باوے، سنگتاں والی سرکار، ککڑاں والی سرکار، کنگن، کلاوے، چیخ چیخ کر حلالی حرامی کے نعرے، ذوالجناح کو ڈنر کی دعوت، شہنشاہ فضائل، بحر المصائب، نیاز کی دیگیں، اسٹیل کے علم، سبیلیں، عماریاں، تابوت، جلوس، زنجیر کا ماتم، انگوری تابوت، چپ تابوت، بولتا تابوت، آگ کا ماتم، قمعہ کا ماتم ... سب تو آئمہ (ع) کے دور میں نہیں تھا تو کیا یہ بھی چھوڑ دیں گے؟ 🤔
توضیح المسائل حلال و حرام کا گھر بیٹھے پتہ لگانے کیلئے اللہ (ج) کی ایک عظیم نعمت ہے. جب لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اور چھپائی اتنی وافر مقدار میں ممکن نہیں تھی تو یہ اس شکل میں نہ تھی اب جب پرنٹنگ پریس نے ترقی کر لی عوام بھی پڑھی لکھی ہے تو کیوں نہ ایسی کتاب ہو جو عوام کیلئے آسانی پیدا کرے.
ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
+923337467268
*arezuyeaab.blogfa.com* جو آئمہ علیہم السلام کے دور میں تھی یا کسی عالم کے دور میں تو آپ کے باوے، سنگتاں والی سرکار، ککڑاں والی سرکار، کنگن، کلاوے، چیخ چیخ کر حلالی حرامی کے نعرے، ذوالجناح کو ڈنر کی دعوت، شہنشاہ فضائل، بحر المصائب، نیاز کی دیگیں، اسٹیل کے علم، سبیلیں، عماریاں، تابوت، جلوس، زنجیر کا ماتم، انگوری تابوت، چپ تابوت، بولتا تابوت، آگ کا ماتم، قمعہ کا ماتم ... سب تو آئمہ (ع) کے دور میں نہیں تھا تو کیا یہ بھی چھوڑ دیں گے؟ 🤔
توضیح المسائل حلال و حرام کا گھر بیٹھے پتہ لگانے کیلئے اللہ (ج) کی ایک عظیم نعمت ہے. جب لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اور چھپائی اتنی وافر مقدار میں ممکن نہیں تھی تو یہ اس شکل میں نہ تھی اب جب پرنٹنگ پریس نے ترقی کر لی عوام بھی پڑھی لکھی ہے تو کیوں نہ ایسی کتاب ہو جو عوام کیلئے آسانی پیدا کرے.
ملتمس دعا: الاحقر محمد زکی حیدری
+923337467268
*arezuyeaab.blogfa.com*
منگل، 28 نومبر، 2017
*عید زھرا (ع)*
*پیغمبرنوگانوی*
ہمارے معاشرے میں بہت سی عیدیں آتی ہیں جیسے عید قربان ، عید غدیر،عید مباہلہ اور عید زہرا(ع) وغیرہ… یہ ساری عیدیں کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں․
عید الفطر: یکم شوال کو ایک مہینہ کے روزے تمام کرنے کا شکرانہ اور فطرہ نکال کر غریبوں کی عید کا سامان فراہم کرنے کا ذریعہ ہے․
عید قربان: 10/ذی الحجہ حضرت اسماعیل (ع)کو خدا نے ذبح ہونے سے بچالیا تھا اور اُن کی جگہ دنبہ ذبح ہوگیا تھا،جس کی یاد مسلمانوں پر ہر سال منانا سنت ہے
عید غدیر: 18/ ذی الحجہ کو غدیر خم میں مولائے کائنات حضرت علی (ع) کی تاج پوشی کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے،اِس دن رسول خدا نے غدیر خم کے میدان میں مولائے کائنات کو سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان ،اللہ کے حکم سے اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا تھا․
عید مباہلہ: 24/ ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے،اس روز اہل بیت(ع) کے ذریعہ اسلام کو عیسائیت پر فتح نصیب ہوئی تھی․
عید زہرا: 9/ ربیع الاول کو منائی جاتی ہے اور اس عید کے منانے کی مختلف وجہیں بیان کی جاتی ہیں،مثلاً:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ 9/ ربیع الاول کو دشمن حضرت زہرا(ع) ہلاک ہوا،لہٰذا یہ خوشی کا دن ہے اور اس روز کو ”عید زہرا(ع)“ کے نام سے موسوم کردیا گیا․
اس بارے میں علماء و مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،بعض کہتے ہیں کہ عمر ابن خطاب نہم ربیع الاول کو فوت ہوئے اور بعض دیگر کہتے ہیں کہ ان کی وفات 26/ ذی الحجہ کو ہوئی …جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب 9/ ربیع الاول کو فوت ہوئے اُن کا قول قابل اعتبار نہیں ہے ،علامہ مجلسی اس بارے میں اس طرح وضاحت فرماتے ہیں کہ :
”عمر ابن خطاب کے قتل کئے جانے کی تاریخ کے بارے میں علمائے شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے
علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بھی ابن ادریس کی کتاب ”سرائر“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ :
”ہمارے بعض علما کے درمیان عمر بن خطاب کی روزِ وفات کے بارے میں اشتباہات پائے جاتے ہیں (یعنی) یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب 9/ ربیع الاول کو فوت ہوئے،یہ نظریہ غلط ہے“( بحار الانوار،جلد 58، صفحہ 372،باب 13، مطبوعہ تہران)
علامہ مجلسی کتاب ”انیس العابدین “کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ :
”اکثر شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب 9/ ربیع الاول کو قتل ہوئے اور یہ صحیح نہیں ہے… بتحقیق عمر 26/ ذی الحجہ کو قتل ہوئے … اور اس پر ”صاحب کتاب غرہ“ ” صاحب کتاب معجم“ ”صاحب کتاب طبقات“ ”صاحب کتاب مسار الشیعہ “ اور ابن طاوٴوس کی نص کے علاوہ شیعوں اور سنیوں کا اجماع بھی حاصل ہے
…اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ وہ 9/ ربیع الاول کو فوت ہوئے(جو کہ غلط ہے)تب بھی حضرت فاطمہ زہرا (ع)کی شہادت پہلے ہوئی اور آپ کے دشمن یکے بعد دیگری بعد میں ہلاک ہوئے…تو پھر اپنے دشمنوں کی ہلاکت سے حضرت فاطمہ زہرا(ع)کس طرح خوش ہوئیں …لہٰذا عید زہرا (ع)کی یہ وجہ غیر معقول نظر آتی ہے․
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ 9/ربیع الاول کو جناب مختار نے امام حسین(ع) کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا…لہٰذا یہ روز شیعوں کے لئے سرور و شادمانی کا ہے․ ہم نے معتبر تاریخ کی کتابوں میں بہت تلاش کیا لیکن کہیں یہ بات نظر نہ آئی کہ جناب مختار(ع)نے 9/ربیع الاول کو امام حسین(ع)کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا تھا…لہٰذا یہ وجہ بھی غیر معقول ہے․
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب مختار(ع) نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین(ع)کی خدمت میں مدینہ بھیجا اور جس روز یہ سر چوتھے امام(ع) کی خدمت میں پہنچا وہ ربیع الاول کی 9/ تاریخ تھی،امام(ع) نے ابن زیاد کا سر دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور مختار کو دعائیں دیں نیز اسی وقت سے ان عورتوں نے بالوں میں کنگھی اور سر میں تیل ڈالنا اور آنکھوں میں سرمہ لگاناشروع کیا جو واقعہ کربلا کے بعدسے ان چیزوں کو چھوڑے ہوئے تھیں․
جن کے گھر میں شریعت نازل ھوئی اور اس شریعت صفائی ستھرائی کی بہت زیادہ تاکید کی ھو اور صفائی کو ایمان کی نشانی بتایا ھو وھی لوگ اتنے دن تک بغیر سر میں کنگھی کئے اور سر صاف کئے رھے !؟ کونسے سماج میں سر صاف کرنا اور سر میں تیل ڈالنا خوشی کی علامت سمجھا جاتا ھے !؟
جن کے گھر میں شریعت نازل ھوئی اور اس شریعت صفائی ستھرائی کی بہت زیادہ تاکید کی ھو اور صفائی کو ایمان کی نشانی بتایا ھو وھی لوگ اتنے دن تک بغیر سر میں کنگھی کئے اور سر صاف کئے رھے !؟ کونسے سماج میں سر صاف کرنا اور سر میں تیل ڈالنا خوشی کی علامت سمجھا جاتا ھے !؟
بالفرض اگر اسے صحیح مان لیاجائے تب بھی یہ عید جناب زینب (ع) اور جناب سید سجاد(ع) سے منسوب ہونی چاہئے تھی …اور ہمیں بھی امام زین العابدین (ع)کی پیروی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شکر خدا ادا کرنا چاہئے تھا اور جناب مختار کے لئے دعائے خیر کرنا چاہئے تھی ،لیکن نہ تو یہ عید چوتھے امام(ع) سے منسوب ہوئی اور نہ جناب زینب(ع) کے نام سے مشہور ہے لہٰذا عید زہرا (ع)کی یہ وجہ بھی غیر معقول ہے․
بعض علماء کی تحقیق کے مطابق 9/ ربیع الاول کو جناب رسول خدا کی شادی جناب خدیجہ(س) سے ہوئی تھی اور حضرت فاطمہ زہرا(ع) ہر سال اس شادی کی سالگرہ مناتی تھیں اور جشن کیا کرتی تھیں ،نئے لباس اور انواع و اقسام کے کھانے مہیا کرتی تھیں ،لہٰذا آپ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے شیعہ خواتین نے بھی یہ سالگرہ منانی شروع کی اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ،آپ(ع)کے بعد یہ خوشی آپ (ع)سے منسوب ہوگئی اور اس طرح 9/ ربیع الاول کا روز شیعوں کے درمیان عید زہرا(ع) کے نام سے موسوم ہوگیا ،لہٰذا عید زہرا (ع)کی یہ وجہ مناسب معلوم ہوتی ہے،چنانچہ ایک شخص نے آیت اللہ کاشف الغطاء سے سوال کیا کہ :
”مشہور ہے کہ ربیع الاول کی نویں تاریخ جناب فاطمہ زہرا(ع) کی خوشی کا دن تھا اور ہے اور یہ اس حال میں ہے کہ عمر کے 26/ذی الحجہ کو زخم لگا اور 29/ ذی الحجہ کو فوت ہوا لہٰذا یہ تاریخ حضرت فاطمہ زہرا (ع)کی وفات سے بعد کی تاریخ ہے تو پھر حضرت فاطمہ زہرا(ع)(اپنے دشمن کے فوت ہونے پر) کس طرح خوش ہوئیں؟
اس کا جواب آیت اللہ کاشف الغطاء نے اس طرح دیا کہ :
”شیعہ پُرانے زمانے سے ربیع الاول کی نویں تاریخ کو عید کی طرح خوشی مناتے ہیں…کتاب اقبال میں سید ابن طاوٴوس نے فرمایا ہے کہ 9/ ربیع الاول کی خوشی اس لئے ہے کہ اس تاریخ میں عمر فوت ہوا ہے اور یہ بات ایک ضعیف روایت سے لی گئی ہے جس کو شیخ صدوق نے نقل کیا ہے،لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ(ع)/ربیع الاول کو شیعوں کی خوشی شاید اس وجہ سے ہے کہ 8/ربیع الاول کو امام حسن عسکری (ع)شہید ہوئے اور / ربیع الاول اامام زمانہ (ع)کی امامت کا پہلا روز ہے …
اس خوشی کا دوسرا احتمال یہ ہے کہ 9/ اور 10/ ربیع الاول پیغمبر اسلام کی جناب خدیجہ سے شادی کا روز ہے اور حضرت فاطمہ زہرا(ع) ہر سال اس روز خوشی مناتی تھیں اور شیعہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے ان دنوں میں خوشی منانے لگے ،مگر شیعوں کو اس خوشی کی یہ علت معلوم نہیں ہے“
( سوال و جواب ،صفحہ 10 و 11، از آیت اللہ العظمیٰ کاشف الغطاء ،ترجمہ ،مولانا (ڈاکٹر)سید حسن اختر صاحب نوگانوی،منجانب ادارہٴ تبلیغ و اشاعت نوگانواں سادات)
اس سلسلہ میں بعض حضرات و خواتین غلط بیانی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس دن جو چاہیں گناہ کریں اس پر عذاب نہیں ہوتا اور فرشتے لکھتے بھی نہیں اور یہ لوگ علامہ مجلسی کی کتاب بحار الانوارکی اس طویل حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کو علامہ مجلسی نے سید بن طاوٴوس کی کتاب ”زوائد الفوائد“سے نقل کیا ہے … ہاں بحار الانوار میں ایک حدیث ایسی ضرور لکھی ہوئی ہے،مگر یہ حدیث چند وجوہات کی بناء پر قابل اعتبار و عمل نہیں ہے:
1۔ اس حدیث میں لکھا ہے کہ 9/ ربیع الاول کو جو گناہ چاہیں کریں اس کو فرشتے نہیں لکھتے اور نہ ہی عذاب کیا جاتا ہے․
اور ہم قرآن مجید کے سورہٴ زلزال کی آیت 7 اور 8 میں پڑھتے ہیں کہ
”فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَرَہ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرَّاً یَرَ ہ“
”یعنی جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو وہ اسے دیکھ لے گا“
اور ہمارے سامنے رسول خدا کی وہ حدیث بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ : اگر کسی سے ایسی حدیث سنو جو ہم سے منسوب ہو اور قرآن سے ٹکرا رہی ہو تو اسے دیوار پر دے مارو یعنی اس پر عمل نہ کرو،مذکورہ روایت قرآن سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا قابل عمل نہیں ہے․
2۔ اس حدیث کے راوی غیر معتبر ہیں ،چنانچہ جب میں نے قم میں آیت اللہ شاہرودی صاحب سے استفتاء کیا تو زبانی طور پر آپ نے فرمایا کہ :
” اس روایت کو علامہ مجلسی نے کتاب اقبال سے نقل کیا ہے اور اس کے راوی غیر معتبر ہیں … 9/ ربیع الاول کا مرفوع قلم نہ ہونا اظہر من الشمس ہے“(لہٰذا مذکورہ روایت غیر معتبر ہے)
3۔ اس روایت میں ایک جملہ اس طرح آیا ہے کہ :
” رسول اللہ … نے امام حسن(ع) اور امام حسین -(جو کہ 9/ ربیع الاول کو آپ کے پاس بیٹھے تھے ) سے فرمایا کہ اس روز کی برکت اور سعادت تمہارے لئے مبارک ہو کیوں کہ آج کے دن خدا وند عالم تمہارے اور تمہارے جد کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا “
رسول اسلام اگر مستقبل میں رونما ہونے والے کسی واقعہ یا حادثہ کی خبر دیں توسو فی صد صحیح ،سچ اور وقوع پذیر ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ آپ (ع)صادق الوعد ہیں․
لیکن معتبر تاریخ میں کسی بھی دشمن رسول و آل رسول کی ہلاکت 9/ ربیع الاول کے روز نہیں ملتی لہٰذا روایت قابل اعتبار نہیں ہے․
4۔ اس روایت کے آخر میں امام علی -کے حوالے سے 9/ ربیع الاول کے 57 نام ذکر کئے گئے ہیں جن میں یوم رفع القلم (گناہ نہ لکھے جانے کا دن ) یوم سبیل اللہ تعالیٰ ( اللہ کے راستے پر چلنے کا دن ) یوم قتل المنافق ( منافق کے قتل کا دن ) یوم الزھد فی الکبائر (گناہان کبیرہ سے بچنے کا دن ) یوم الموعظہ (وعظ و نصیحت کا دن ) یو م العبادة (عبادت کا دن ) بھی شامل ہیں جو آپس میں متصادم ہیں یعنی 9/ ربیع الاول کو گناہ نہ لکھنے کا دن کہہ کے سب کچھ کر ڈالنے کی تشویق بھی ہے تو یوم نصیحت و عبادت و زہد کہہ کر گناہوں سے روکا بھی گیا ہے اور یہ تضاد کلام معصوم(ع) سے بعید ہے اس کے علاوہ قتل منافق کا روز بھی کہا گیا ہے جس کی تردید آیت اللہ کا شف الغطاء اور آیت اللہ شاہرودی کے حوالے سے ہم کرہی چکے ہیں، لہٰذا یہ روایت غیر معتبر ہے․
5۔ اس روایت میں ایک جملہ یہ بھی آیا ہے کہ :
”اللہ نے وحی کے ذریعہ حضرت رسول سے کہلایا کہ : اے محمد ! میں نے کرام کاتبین کو حکم دیا ہے کہ وہ 9/ ربیع الاول کو آپ(ع) اور آپ(ع) کے وصی کے احترام میں لوگوں کے گناہوں اور ان کی خطاوٴں کو نہ لکھیں “
جب کہ دوسری طرف قرآن مجید میں خداوند عالم اس طرح ارشاد فرماتا ہے کہ :
” ھٰذَا کِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“
”یہ ہماری کتاب (نامہٴ اعمال ) ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ہم اس میں تمہارے اعمال کو برابر لکھوا رہے تھے“ (سورہٴ جاثیہ،آیت 29)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں،اور کسی بھی روز کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے․
”وَوَضَعَ الْکِتٰبُ فَتَرَیٰ الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ و َ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبَ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا کَبِیْرَةً اِلَّا اَحْصٰھَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَداً“
”اور جب نامہٴ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ! اس کتاب (نامہٴ اعمال ) نے تو چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتاہے“(سورہٴ کہف، آیت 49)
اس آیت سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال برابر لکھے جاتے ہیں اور کوئی بھی موقع اور دن اس سے مستثنیٰ نہیں ہے․
”یَوْمَئِذٍیَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتاً لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَّرَہ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَّرَہ“
”اس روز سارے انسان گروہ گروہ قبروں سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ سکیں پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا“(سورہٴ زلزلہ ،آیت 5-18)
اس روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں․
یہ روایت آیات قرآنی سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا غیر معتبر ہے․
ہو سکتا ہے بعض حضرات یہ اعتراض کریں کہ اتنی معتبر شخصیات جیسے علامہ ابن طاوٴوس،شیخ صدوق اور علامہ مجلسی وغیرہ نے کس طرح ضعیف روایتوں کو اپنی کتابوں میں جگہ دے دی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ شیعہ علماء نے کبھی بھی اہل سنت کی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ ہماری کتابوں میں جو بھی لکھا ہے وہ سب صحیح ہے،بلکہ ہمیں ان کی چھان بین کی ضرورت رہتی ہے،کیوں کہ جس زمانہ میں یہ کتابیں مرتب کی گئیں وہ پُر آشوب دور تھا اور شیعوں کی جان و مال ،عزت و آبروکے ساتھ ساتھ ثقافت بھی غیر محفوظ تھی جس کی مثالوں سے تاریخ کا دامن بھرا پڑا ہے،مسلمان حکمراں شیعوں کے علمی سرمایہ کو نذرِ آتش کرنا ہرگز نہ بھولتے تھے،ایسے ماحول میں ہمارے علمائے کرام نے ہر اس روایت اور بات کو اپنی کتابوں میں جگہ دی جو شیعوں سے تعلق رکھتی تھی،جس میں بعض غیر معتبر روایات کا شامل ہوجانا باعث تعجب نہیں ہے،چونکہ اُس زمانہ میں چھان پھٹک کا موقع نہ تھا اس لئے یہ کام بعد کے علماء نے فرصت سے انجام دیا ،جبھی تو آیت اللہ کاشف الغطاء اورآیت اللہ شاہرودی کے علاوہ دیگر مراجع کرام9/ ربیع الاول والی اس روایت کو ضعیف مانتے ہیں․
ہمیں چاہئے کہ اِس روز بھی اسی طرح اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں جس طرح دوسرے ایام میں بچانا واجب ہے ،ہمارے ائمہ(ع)اور فقہائے عظام و مراجع کرام کا یہی حکم ہے ،چنانچہ جب میں نے اِس بابت مراجع کرام آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ،آیت اللہ مکارم شیرازی،آیت اللہ فاضل لنکرانی،آیت اللہ اراکی اور آیت اللہ صافی گلپائیگانی سے قم میں یہ استفتاء کیا کہ :
”بعض لوگ عالم و غیر عالم اس بات کے معتقد ہیں کہ 9/ ربیع الاول سے (جو کہ عید زہرا(ع) سے منسوب ہے )11/ ربیع الاول تک انسان جو چاہے انجام دے چاہے وہ کام شرعاً ناجائزہو تب بھی گناہ شمار نہیں ہوگا اور فرشتے اسے نہیں لکھیں گے ، برائے مہربانی اس بارے میں کیا حکم ہے بیان فرمائیے
آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای صاحب نے اس طرح جواب دیا کہ :
”شریعت کی حرام کی ہوئی وہ چیزیں جو جگہ اور وقت سے مخصوص نہیں ہیں کسی مخصوص دن کی مناسبت سے حلال نہیں ہوں گی،بلکہ ایسے محرمات ہر جگہ اور ہر وقت حرام ہیں اور جو لوگ بعض ایام میں ان کو حلال کی نسبت دیتے ہیں وہ کورا جھوٹ اور بہتان ہے اور ہر وہ کام جو بذات خود حرام ہو یا مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا باعث ہو شرعاً گناہ اور عذاب کا باعث ہے“
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی صاحب کا جواب یہ تھا کہ:
”یہ بات (کہ 9/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے )صحیح نہیں ہے اور کسی بھی فقیہ نے ایسا فتویٰ نہیں دیا ہے ،بلکہ ان ایام میں تزکیہٴ نفس اور اہل بیت (ع)کے اخلاق سے نزدیک ہونے اور فاسق و فاجر وں کے طور طریقوں سے دور رہنے کی زیادہ کوشش کرنی چاہئے“
آیت اللہ فاضل لنکرانی صاحب نے یوں جواب دیا کہ:
”یہ اعتقاد(کہ 9/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے )غیر صحیح ہے ان ایام میں میں بھی گناہ جائز نہیں ہے ،مذکورہ عید (عید زہرا(ع) ) بغیر گناہ کے منائی جا سکتی ہے“
آیت اللہ اراکی صاحب نے تحریر فرمایاکہ :
”وہ کام جن کو شریعت اسلام نے منع کیا ہے اور مراجع کرام نے اپنی توضیح المسائل میں ذکر کیا ہے کسی بھی وقت جائز نہیں ہیں، اور یہ باتیں کہ (9/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے) معتبر نہیں ہیں“
آیت اللہ صافی گلپائیگانی صاحب کا جواب تھا کہ :
”یہ بات کہ (9/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے ) ادلّہٴ احکام کے عمومات و اطلاقات کے منافی ہے اور ایسی معتبر روایت کہ جو ان عمومی و مطلق دلیلوں کو مخصوص یا مقید کردے ثابت نہیں ہے بالفرض اگر ایسی کوئی روایت ہوتی بھی تو یہ بات عقل و شریعت کے منافی ہے اور ایسی مقید و مخصص دلیلیں منصرف ہیں …“
یہ بات واضح ہوجانے کے بعد اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے ، وہ یہ کہ اس خوشی کو کس طرح منائیں …؟اسی طرح جیسے اکثر بستیوں میں منائی جاتی ہے ؟ یا پھر اس میں تبدیلی ہونی چاہئے؟
جن ہستیوں سے یہ خوشی منسوب ہے اُن کے کردار کی جھلک بھی اس خوشی اور عید میں نظر آنی چاہئے یا نہیں؟
یہ خوشی امام زمانہ(ع)اور حضرت فاطمہ زہرا (ع) سے منسوب ہے تو کیا ہمیں ان معصومین (ع)کے شایان شان اس خوشی کو نہیں منانا چاہئے ؟…ہمیں کیا ہوگیا ہے ! اپنے زندہ امام کی خوشی کو اس انداز سے مناتے ہیں ؟دنیا کی جاہل ترین قومیں بھی اپنے رہبر کی خوشی اس طرح نہ مناتی ہوں گی …
افسوس صد ہزار افسوس! آج کل اگر کسی سیاسی و سماجی شخصیت کے اعزاز میں جلسے جلوس منعقد کئے جاتے ہیں تو ان کو اُسی کے شایان شان طریقے سے اختتام تک پہنچانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے․
لیکن عید زہرا !(ع)جو خاتون ِ جنت ،جگر گوشہٴ رسول زوجہٴ علی مرتضیٰ (ع)،ام الائمہ زہرا بتول(ع) کے نام سے منسوب ہے وہ اس طرح منائی جاتی ہے کہ اس میں شریف انسان شریک ہونے کی جرأت بھی نہ کر سکے؟!
اس کے علاوہ عالم اسلام پر جس طرح خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے ،کتنا اچھا ہو اگر عید زہرا(ع)اپنے حقیقی معنوں میں اس طرح منائی جائے جس میں تمام مسلمین شریک ہوسکیں ․
تبرہ فروع دین سے تعلق رکھتا ہے اور فروع دین کا دارو مدار عمل سے ہے … اگر کوئی مسلمان صرف زبان سے کہے کہ نماز ،روزہ، حج، زکوٰة،خمس وغیرہ واجب ہیں تو یہ تمام واجبات جب تک عملی صورت میں ادا نہ ہوجائیں گردن پرقضا ہی رہیں گے…فروع دین کے واجبات وقت اور زمانے سے مخصوص ہیں، جس طرح نماز کے اوقات بتائے گئے ہیں اسی طرح روزہ ،زکوٰة،حج اور خمس وغیرہ کازمانہ بھی معین ہے ، لیکن امر باالمعروف ،نہی عن المنکر،تولا اور تبرا یہ دین کے ایسے فروع ہیں جن کے لئے کوئی وقت اور زمانہ معین نہیں ہے ،بالخصوص تولا اور تبرا سے تو ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں رہ سکتے ،یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک منٹ کے لئے محبت اہل بیت(ع)کو دل سے نکال دیا گیا ہے یا ایک لمحہ کے لئے دشمنان اہل بیت(ع) کے کردار کو اپنا لیا گیا ہے ، جب ایسا ہے … تو پھرتبرہ کو 9/ ربیع الاول سے کیوں مخصوص کردیا گیا ؟ اِسی روز اس کی کیوں تاکید ہوتی ہے؟ باقی دنوں میں اس طرح کیوں یاد نہیں آتا؟وہ بھی صرف زبانی! …
زبان سے تبرا کافی نہیں ہے بلکہ عملی میدان میں آکر تبرا کریں یعنی اہل بیت(ع) کے دشمنوں کی اطاعت و حکمرانی دل سے قبول نہ کریں اور ان کے پست کردار کونہ اپنائیں․
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شیعہ جو خمس نہ نکالتا ہو اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھتا ہو وہ غاصبین پر لعنت کرے اور اس لعنت میں خود بھی شامل نہ ہوجائے ․
وہ شیعہ جو اپنے عملِ بد سے اہل بیت (ع)کو ناراض کرتا ہو اور وہ اہل بیت(ع) کو ستانے والوں پر لعنت کرے اور اس لعنت کے دائرے میں خود بھی نہ آجائے․
یاد رکھئے ! لعنت نام پر نہیں ،کردار پر ہوتی ہے اسی لئے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے
ملال نه کر
گیا جو ماہِ محرم تو کچھ ملال نہ کر..
غمِ حُســـــین کو پابندِ ماہو سال نہ کر..
کرے گا وقت اسے قید یہ خیال نہ کر..
یہ معاملے ہیں دلوں کے کوئی سوال نہ کر..
لگا کے سینے سے رکھ روز و شب اسی غم کو..
اور کبھی نہ کرنا جدا دل سے تم محرم کو..
اُٹھو سحر کی اذاں پر تو اکبرا کہہ کر..
پڑھو جو عصر تو یا راضی الرضا کہہ کر..
نماز شب ہو ادا واہ مصیبتا کہہ کر..
اور ہر ایک سانس چلے ہائے کربلا کہہ کر..
بجھاؤ پیاس تو آنکھوں میں اشک آجائے..
اور تصورات میں ننی مشک آجائے..
پیامِ حضرت شبیر ہو تیرا منشور..
اور اسی پیام سے عالم میں سچ ہوا منشور..
جھنجھوڑ کر یہ جگاتا ہے آدمی کا شعور..
خدا شناس کو ہے کربلا تجلی طور..
حُســـــین اپنے عمل میں قرآن ناطق ہے..
یہ وہ شہید ہے جس کا شہید خالق ہے
حُســـــین بن کے صداقت کی آبرو ہوجا..
کمالِ آئینہ حق کے روبرو ہوجا..
یزید عصر کی طاقت سے دوبدو ہوجا..
نگاہِ فاطمہ زہراء ع میں سرخرو ہوجا..
وفا شعار ہے تو ان کے نورعین سے کر..
لہو کا خُمس ادا ماتمِ حُســـــین سے کر..
حُســـــینیت کے قدم سے قدم ملائے ہوئے..
بُریداست وفا کا علم اُٹھائے ہوئے..
سنانے وقت پہ ظالم کا سر سجائے ہوئے..
بڑھے چلو کہ یہ رستے ہیں آزمائے ہوئے..
خُود اپنی ذات میں ایک انقلاب بن کے اُٹھو..
صدائے ینصرنا کا جواب بن کے اُٹھو..
تجھے ملیں گے زمانے میں بے شمار یزید لعنہ..
حُســـــینیت کے عباء پوش دعوے دار یزید لعنہ..
کہیں گدا کہیں مسجد کے عہدے دار یزید لعنہ..
یزید جو بھی جہاں ہو اُسے پکار یزید لعنہ..
علم بدست مقدر پہ اختیار لئے..
صفوں کو چیر دے ہاتھوں میں ذوالفقار لئے..
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
-
زیارت جامعہ پر ایک نظر تحریر: محمد عباس مسعود زیارت یعنی عاشق کی دیار معشوق میں حاضری،چاہنے والے کا اپنے محبوب سے چاہت کااظہار ،ایک...
-
۱۷ ربیع الاول 💐اخلاق و سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ پر طائرانہ نظر🌴 یوں تو سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ کی سیرت کوبی...
