ہفتہ، 25 نومبر، 2017

زیارت جامعہ پر ایک نظر

زیارت جامعہ پر ایک نظر
تحریر: محمد عباس مسعود
زیارت یعنی عاشق کی دیار معشوق میں حاضری،چاہنے والے کا اپنے محبوب سے چاہت کااظہار ،ایک دین دار کا اپنے امام کے آگے تسلیم ہونا،ایک مرید کا اپنے  مرادسے وفاداری کا اعلان ہے۔ زیارت امتحان کے ترازو میں اپنے آپ کو تولنے کا نام ہےاور ایسا اشتیاق بھرا سفر ہےجودل سے  شروع  ہوتا ہے، دل ہی کے راستے سے طے کیا جاتا ہےاور منز دل پر جاکر تمام ہوتاہےجہاں مسافر اپنا بار سفر اتاردیتا ہے ۔

زیارت،انسان کا فطری تقاضہ ہے، اس لئے کہ انسان کی فطرت یہ ہےکہ جہاں کہیں کمال ہو،حُسن ہو، زیبائی ہو،اس کادل اس کمال و زیبائی کی جانب مائل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ دنیا بھر میں صاحب کمال کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہے تاریخ ساز شخصیات، صاحبان ہنر،مصلح  افراد،اور ادباء، شعراء اور علمائے دین کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ بقید حیات ہیں تو انہیں نشان لیاقت اور ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے اگر دنیا سے گزرگئےتو انکی یاد منائی جاتی ہے۔ ان  کیلئے سیمینار رکھے جاتے ہیں یا میوزیم بناکران شخصیات کے علمی ادبی اور ہنری آثار کو زندہ کیاجاتا ہے۔ اظہار عقیدت کے انداز بدلتے رہتے ہیں مگر حسن و کمال سے یہ عشق کبھی نہیں  بدلتا،اگر ہم کمال مطلق کی عبادت کرتے ہیں تو وہ  بھی ہماری کمال دوستی کا نتیجہ ہے یہاں تک کہ بت پرست جو لکڑییا پتھر کو پوجتے تھے،انہیں وہ صاحب کمال تصور کرتے تھے اگرچہ ان کا یہ تصور ایک غلط تصور تھا۔

صاحبان کمال کی عزت اوران کےاحترام کا ایک طریقہ یہی زیارت ہے زیارت ان کی معنوی حیات کو باقی رکھتی ہے۔ جہاں یہ زیارت آنے والی نسل کو گذشتہ نسل سے جوڑتی ہے وہیں پران سے اور ان کے کمالات سے روحانی رشتہ بھی برقرار کرتی ہے۔ بھلا انبیاء و اولیاءکرام اور ائمہ معصومین سے بڑھ کر صاحب کمال کون ہوگا ؟یہ اللہ کی برگزیدہ شخصیات ہیں آج ہزاروں سال کے بعد بھی انکی یاد مومنین کے دلوں میں زندہ ہے۔ اللہ نے ان کی یاد مومنین کے دلوں میں زندہ رکھی اور ان کے آثار کو باقی رکھا ان کے آثار کی حفاظت اور انکے احترام کو عین تقوٰی قرار دیا اور ان عظیم ہستیوں کی زیارت کو دینی فریضہ قرار دیتے ہوئےاس کے لئےبہت زیادہ اجر و ثواب رکھا، اس کے علاوہ زیارت کے بےشمار انفرادی اور اجتماعی فوائد بھی ہیں جن کا ذکر کیا جائیگا۔
خاص طور سے اہلبیت علیہم السلام کے فضائل و مناقب کا ذکر اور ان کی مصیبت میں اظہار غم جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہےکہ ان کاذکر انسان کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور اہلبیتؑ سے وابستگی قرآنی تعلیمات اورسنت معصومینؑ سے استفادہ کا باعث بنتی ہے اور  بندگان خدا کا خلیفہ خدا سے رشتہ جڑا رہتا ہے ۔

زیارت کامعنی و مفہوم
زیارت، لفظ ’’زوز‘‘سے ماخوذہے،جس کے معنی عدول کرنے کےہیں جھوٹ کو اس لئے زورکہا جاتا ہےکیونکہ وہ حق سے منحرف ہے۔ احمد بن فارس کہتے ہیں زائر کو اس لئے زائر کہتے ہیں کیونکہ جب وہ زیارت کیلئے آتا ہے تو دوسروں سے منہ پھیر لیتا ہے،اسی لئے بعض اہل لغت نے زیارت کے معنی قصداور توجہ کے کئے ہیں۔
فیومی کہتے ہیں کہ زیارت کا عام مفہوم یہ ہے کہ انسان احترام اور اظہار عقیدت کےجذبے کے ساتھ کسی کی جانب متوجہ ہو اور اس سےانس پیدا کرے۔اور بعض نے کہاہےکہ اولیا اور بزرگوں سے ملاقات کو زیارت کہتےہیں، اس اعتبار سے زیارت میں ایک روحانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جس سےانسان عالم طبیعت میں ہونے کے باوجودمادیت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو عالم روحانیت سے جوڑ لیتا ہے یہ کلمہ قرآن میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

زیارت کی سب سے اہم شرط 
انبیاء،اولیاء،معصومین اور آل پیغمبرﷺ کی زیارت کی سب سے اہم شرط معرفت ہے اور روایات میں اس نکتے پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں روایت ہے کہ "من زارھا معرفۃ بحقھا وجبت لہ الجنۃ"جو حضرت معصومہؑ کی زیارت،حق معرفت کے ساتھ انجام دے اس پر جنت واجب ہے سوال یہ ہے کہ حق معرفت کسے کہتے ہیں؟ ظاہر ہے حق معرفت یعنی زائر کو حق امام کی معرفت ہو اور حق امام کیا؟ اس سلسلے میں موجود روایات کی روشنی میں امام کا حق یہ ہے کہ زائر امام کو مفترض الطاعۃ یعنی امام کی اطاعت کو اواجب جانے۔
نہج البلاغہ کےخطبہ نمبر ۳۴ میں امام علی علیہ السلام ،امام اور رعیت کے حقوق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
 أَمَّا حَقِّی عَلَیْکُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَیْعَةِ وَ النَّصِیحَةُ فِی الْمَشْهَدِ وَ الْمَغِیبِ وَ الْإِجَابَةُ حِینَ أَدْعُوکُمْ وَ الطَّاعَةُ حِینَ آمُرُکُم۔‏
میرا تم پریہ حق ہےکہ بیعت کی ذمہ داریوں کو پورا کرو اور سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو،جب میں بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔
اس لئے زائر کی ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ امام کے فرمان کو بجالائے اور جو امام کے اس حق کی رعایت کے ساتھ زیارت کرتے ہیں ان کے بارےمیں کتاب کامل الزیارات کے باب نمبر ۱۰۱ میںایک روایت ہےکہ :فمن زارہ مسلما لامرہ ،عارفا بحقہ کان عند اللہ کشہداء البدر۔
جو امام رضا علیہ السلام کی اس حالت میں زیارت کرے کہ آپ کے اوامر کے آگے تسلیم ہو اور آپ کے مقام و مرتبہ کو پہچانتا ہو تو ایسا زائر اللہ کے نزدیک شہداء بدر کا درجہ رکھتا ہے۔
ہاں اگر زائرحق کے آگے تسلیم ہو تو یقینااس کامقام زائرین کے اعلی ترین درجہ میں ہوگا،جہاں اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ ایسا پاک و پاکیزہ ہو جائے گا جیسے ایک نومولود گناہوں سے پاک ہوتا ہے،یہی وجہ ہےکہ زائر زیارت جامعہ میں بارگاہ رب العزت میں دست دعا بلند کرتے ہوئے درخواست کرتا ہے :
أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَنِی فِی جُمْلَةِ الْعَارِفِینَ بِهِمْ۔۔۔۔
تجھ سے یہ درخواست کر تا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں شمار فرما جو اہل بیت (علیہم السلام ) کی معرفت رکھنے والے، ان کے حق کے جاننے والے ، ان کے گروہ میں شامل ہونے والے اور ان کی شفاعت پانے والے ہیں کہ تو ارحم الراحمین ہے۔
خداوندا!محمد اور ان کی آل پاک (علیہم السلام )پر درود بھیج اور بے پناہ سلام ان پر نچھاور فرما حسبنا اللہ و نعم الوکیل خدا ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین وکیل ہے ۔

ماثورہ و غیر ماثورہزیارت نامہ
زیارت نامے دو طرح کےہیں ایک زیارت ماثورہ اور دوسرے زیارت غیر ماثورہ،اگر زائر مزور کے کمالات  کو اپنی زبان سے بیان کرے اور جس کی زیارت کررہا ہے اس سے اپنی محبت کا اظہار اور اس کے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرے تو اس قسم کی زیارت کو زیارت غیر ماثورہ کہتے ہیں،اور اگر یہ اظہار عقیدت، امام معصوم ؑکی زبانی ہو تو ایسے زیارت نامے تولی و تبری کے اظہار کے علاوہ امام معصومؑ کی شناخت کا سبب بنتےہیں اور زائر کو مزور کی آگاہی نصیب ہوتی ہے اس لئے کہ "الکلام صفۃ المتکلم" ہر کلام اس کے متکلم کے علم و آگاہی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ زیارت اگر کلاس درس ہے تو یہ زیارت نامے اس کلاس کا نصاب ہیں ائمہ علیہم السلام نے ان زیارت ناموں میں توحید، صفات الہی، نبوت ،پیامبر شناسیاورامامت و ولایت کے ساتھ ساتھ ماموم کی خصوصیات، ائمہ کیتاریخاورانکی مظلومیت وغیرہ کو بیان کیا ہے ۔

ماثورہ زیارتنامے بھی دو طرح کے ہیں :
1۔اختصاصی زیارتنامے :
کسی ایک امام سے مخصوص زیارت جسمیں زائرکسی ایک نورانی شخصیت کے بارے اظہار ارادت کرتاہےجیسے زیارتنامے کے یہ جملے  :
"السلام علیک یا رسول الله و رحمة الله و برکاته، السلام علیک یا محمد بن عبدالله"
"السلام علیک یا ممتحنة امتحنکِ الذى خلقکِ قبل أن یخلقکِ و کنتِ لما امتحنکِ به صابرةً"
2۔ عمومی زیارت نامے 
ایسے زیارت نامے جن کا مضمون عام ہو جسے ہر امام کی زیارت کے موقع پر پڑھا جاسکتا ہو  جیسے زیارت امین اللہ، زیارت مخصوص ماہ رجب، زیارت جامعہ صغیرہ و کبیرہ وغیرہ

زیارات جامعہ
ماثوره زیارت ناموں میں کئی زیاتیں " زیارت جامعہ "کے عنوان سےمشہور ہیں ان زیارت ناموں کو اس لئے جامعہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متن اور زمان و مکان کے لحاظ سے عمومیت رکھتے ہیں، یعنی جب دل چاہے دور یا نزدیک سے انہیں تمام ائمہ کیلئے پڑھا جاسکتا ہے۔ اس خصوصیت کے حامل زیارت ناموں کی اچھی خاصی تعداد ہے جسے ادعیہ و زیارات کے مولفین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے،چنانچہ ابن بابویہ قمی نے ۲ ،سید محسن امین نے ۴ ، محدث قمی نے ۵ اور مولی محمد باقر مجلسی نے بحار میں" باب الزیارات الجامعہ " میں ائمہ علیہم السلام کی تعداد کے برابر ۱۲ عدد زیارتیں نقل کی ہیں۔ اس کے بعد علامہ مجلسی لکھتے ہیں:اس کے علاوہ اور بھی زیارتنامے ہیں جسے موثق نہ ہونےیامضامین کے تکراری ہونے کی وجہ سے نقل نہیں کیا گیا۔ بہتر ہوتا کہ ہم یہیں پر ان زیارتناموں کی مختصر معرفی بھی بیان کریں لیکن اس مقالے میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ انہی معتبر زیارت ناموں میں ایک زیارت، زیارت جامعہ کبیرہ ہے جو  اس مقالے کا عنوان بھی ہے لہذا اس کی اجمالی تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امام ہادیؑ اور زیارت جامعہ کبیرہ
امامت کے دسویں آفتاب ،ہمارے مولا ،ولی و سرپرست حضرت امام ابو الحسن علی النقی علیہ السلام نے ہم شیعوں پر یہعظیماحسانفرمایا کہ "زیارت جامعہ " کی شکل میں معرفت امام کا لا محدود اور بیش قیمت خزانہ ہمیں عطا فرمایا، امام علیہ السلام نے اپنے ایک محب کی درخواست پر یہ زیارت انہیں تعلیم دی تا کہ وہ اس طرح ائمہ کی زیارت کریں، چنانچہ موسٰی بن نخعی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام  سے درخواست کی کہ اے فرزند رسولؐ آپ مجھے ایک بلیغ اور کامل زیارت تعلیم فرمائیے جس سے میں ہر امام کی زیارت کرسکوں؟  پس امام نے اسے اس طرح تعلیم دیا:
امامؑ نے فرمایا :جب حرم پہونچو تو ٹھہرو اور شہادتین یعنی :
اشہد انّ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشہدو انّ محمدا عبدہ و رسولہ کہو اور ہاں جب حرم میں داخل ہو تو با غسل وارد ہو اور ضریح پر نگاہ پڑے تو ٹھرو اور تیس مرتبہ اللہ اکبر کہو چند قدم بڑے اطمینان اور وقار کے ساتھ آہستہ آگے بڑھو اور ٹھر کر پھر تیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور جب ضریح کے نزدیک پہونچو تو چالیس مرتبہ اللہ اکبر کہو تاکہ سو تکبیریں مکمل ہوجائیں پھر اس طرح زیارت کرو السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ۔۔۔۔۔

محدث قمیؒ اس روایت کے ذیل میں فرماتے ہیں شاید اس تکبیر کی وجہ وہی ہو جسے مجلسی اولؒ نے لکھا ہےکہ اکثر طبیعتیں غلوکی طرف مائل رہتی ہیں ایسا نہ ہو کہ زیارت کے لفظوں سے غلو میں پڑجائیں یا خدا کی یاد سے غافل ہوجائیں۔

زیارت جامعہ کبیرہ کیسند
 متن و سند کے لحاظ سے علماء نےاس زیارت کو بہترین زیارت شمار کیا ہے۔ جناب شیخ صدوق علیہ الرحمہ متوفی ۳۸۱ ہجری اپنی کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ اور ’’عیون اخبار الرضا‘‘  میں، اسی طرح شیخ طوسی علیہ الرحمہ متوفی ۴۶۰ ہجری نے اپنی کتاب ’’تہذیب الاحکام ‘‘  میں اس زیارت کو نقل فرمایا ہے ۔ علامہ مجلسی نے کہا ہے کہ زیارت جامعہ، سند کے اعتبار سے صحیح ترین سند اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے۔  آیۃ اللہ نجفی قوچانی اصفہانی فرماتے ہیں : اس روایت کے رجال ثقہ ہیں سوائے موسی کہ جو توثیق صریح  نہیں رکھتے لیکن شیخ صدوقؒ نے اس زیارت پر صحت کا حکم لگایا ہے اور شیخ دوسروں کے مقابل رجال سے زیادہ واقف ہیں۔ علامہ مجلسیؒ کے والد مجلسی اولؒ  فرماتے ہیں :حضرت امیر المومنینؑ کےحرم میں ایک مرتبہ امام زمانہ سلام اللہ علیہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، میں بلند آواز میں زیارت جامعہ پڑھ رہا تھا زیارت کے اختتام پر حضرتؑ نے ارشاد فرمایا کیا عمدہ زیارت ہے۔  مجلسی اولؑ فرماتے ہیں میں یہ زیارت اکثر پڑھا کرتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ زیارت امام علی نقی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اور امام زمانہ (ارواحنا لہ الفداء)کے بقول یہ زیارت متن کے اعتبار سے بہترین اور کامل ترین زیارت ہے ۔اگر زیارت جامعہ کی سند معتبر نہ بھی ہوتی (جب کہ ایسا نہیں ہے) تب بھی اس زیارت میں موجود کلام کی لطافت، مضمون کی بلندی  ،علم ومعرفت کی گہرائی اس کے صحیح السند ہونے کی دلیل ہے اور ائمہ علیہم السلام کے ربانی علم پر گواہ ہے ۔
سیرت علماءمیں  زیارت جامعہ کی اہمیت 
حاجی نوری مرحوم لکھتے ہیں کہ سید احمد دشتی کو سفر حج کے دوران امام زمانہ ؑکی زیارت نصیب ہوئی امامؑ نے نماز شب، زیارت عاشورا اور زیارت جامعہ پڑھنےکی نصیحت کرتے ہوئے   فرمایا کہ تم نافلہ کیوں نہیں پڑھتے،نافلہ، نافلہ، نافلہ، تم زیارت عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے  عاشورہ، عاشورہ، عاشورہ اور زیارت جامعہ کیوں نہیں پڑھتے جامعہ، جامعہ، جامعہ اسی بنا پر ہمیشہ سے علماء کرام اور عبادت گزار مومنین نوافل میں زیارت جامعہ کا خاص اہتمام کرتے رہے ہیں اور ہر روز  اسے پابندی سے پڑھا کرتے تھے اور آج بھی پڑھتے ہیں۔ اگر شیعہ  علماء کی شرح حال اور تذکروں پر نظر ڈالی جائے تو تمام عظیم المرتبت شخصیات کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اور محبت اہل بیت  سے کبھی بھی غافل نہیں رہے  وہ ہمیشہ نوافل میں نماز شب اور زیارت جامعہ و زیارت عاشورہ کی پابندی کرتے تھے حجۃ الاسلام استاد فاطمی نیا نے کریمہ اہلبیت حضرت معصومہؑ قم کے حرم مطہر میں، رحلت امام خمینیؒ کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :امام خمینیؒ کی کامیابی اور انکے مقام و مرتبہ اورعظمت وفضل کا راز ان کاعملی عرفان ہے وہ کبھی زیارت جامعہ اور نماز شب ترک نہیں کرتے تھے۔ نجف اشرف میں ۱۵ سال کے قیام کے دوران امام خمینیؒ نے ایک مرتبہ بھی حضرت علی علیہ السلام کی ضریح کے نزدیک نماز شب ترک نہیں کی، جب انکا بیٹا شہید کیا گیا تو آپ نےبس اتنا ہی کہا کہ ’’یہ خدا کے الطاف خفیہ میں سے ہے‘‘ اپنے بیٹے کے غم کوغم نہیں سمجھا لیکن جب بھی امام حسین علیہ السلام کا ذکر آتا تو آپ اتنا شدید گریہ کرتے کہ آپ کے شانے ہلنے لگتے،حرم معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں مدفون علماء اور مراجع کے حالات زندگی "ستارگان حرم " نامی کتاب میں درج ہیں وہاں آپ کو علماء کے حالات میں کئی مثالیں ملیں گی جس میں علماء نے زیارت جامعہ کی اہمیت بیان کی اور اسےپڑھنے کی تاکید کی اور خود بھی اس کے پابند تھے اس مضمون میں گنجائش نہیں کہ انہیں ذکر کیا جائے ۔

 زیارت جامعہ کبیرہ کی شرحیں 
یوں تو ائمہ علیہم السلام کی شان اور فضیلت و مناقب میں بے شمار احادیث و روایات وارد ہوئی ہیں،جو اصول کافی اور دیگر مجامع حدیثی میں موجود ہیں لیکن زیارت جامعہ میں وہ سارے فضائل جو احادیث و روایات میں بطور تفصیل آئے ہیں ان میں سے اکثر فضائل کا ذکر اجمالی طور پر زیارت جامعہ میں ایسے جمع کردیا گیا ہے جیسے کوزے میں سمندر سماجائے ہر زائر کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایام زیارت میں بہترین زیارت کی قرائت کرتے ہوئے اپنے محبوب کی توصیف و تمجید کرے ۔اور ان کا دل چاہتا ہے کہ ان زیارت ناموں کے عالی مضامین کو درک کرتے ہوئے ائمہ کے مقامات سے آشنا ہوں اور ان مضامین سے اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے میں مدد لیں لیکن زیارتوں کے مضامین بہت دقیق و عمیق ہیں جو ہر کس و ناکس کی سمجھ سے باہر ہیں اسی لئے علماء نےمضامین کی بلندی کے پیش نظر ان زیات ناموں کی شرح لکھی بالخصوص زیارت جامعہ کی متعدد شرحیں لکھی گئیں جس کی ایک مختصر فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے یہ تمام شرحیں زیادہ تر فارسی اور عربی زبان میں ہیں اے کاش ایسی شرحیں اردو زبان میں بھی ہوتیں یا انہی شروحات کا اردو میں ترجمہ کردیا جاتا۔
شرحوں کے نام اس طرح ہیں:
1۔اسرار الزیارۃ و برہان الانابہ (فارسی) مولف آقا نجفی اصفہانی /شیخ محمد تقی مطبوع۔
2۔الالھامات الرضویہ فی شرح زیارۃ الجامعہ الکبیرۃ (فارسی)سید محمد بن سید محمود لواسانی  طہرانی۔
3۔انیس الطلاب آقا جعفر بن محمد علی بن وحید بہبہانی اس کتاب کا ایک حصہ زیارت جامعہ کی شرح سےمتعلق ہے۔
4۔حقائق الاسرار آقا نجفی  مذکور۔
5۔شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  ملا تقی مجلسی  پدر علامہ مجلسی۔
6۔ شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  شیخ احمد احسائی۔
7۔ شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  علامہ میرزا علی نقی بن حسین معروف بہ حاج آقا ابن سید مجاھد۔
8۔شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  شیخ میرزا محمد علی ابن مولی محمد نصیر چھاردھی رشتہ نجفی۔
9۔ شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  سید بھاء الدین محمد بن محمد باقر حسینی نائینی مختاری۔
10۔ شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرۃ  بنام ’’اعلام اللامعہ‘‘  سید محمد بن عبد الکریم طباطبائی (جد بحر العلوم)
11۔ شمس الطالعہ فی شرح زیارۃ الجامعہ  سید عبد اللہ ابن ابولقاسم موسوی بلادی۔
12۔شمس الطالعہ  فی شرح زیارۃ الجامعہ  میرزا محمد ابن ابولقاسم ناصر حکمت طبیب زادہ اصفہانی معاصر۔
13۔الشموس الطالعہ فی شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ  سید جلیل سید حسین ھمدانی درودآبادی۔
14۔الشمس الطالعہ فی شرح الزیارات الجامعہ  آقا ریحان اللہ دارابی بروجردی۔
15۔ اللامعہ فی شرح الزیارۃ الجامعہ  سید عبد اللہ شبر۔
16۔شرح زیارت جامعة کبیره، اثر محمد هادی شیخ الاسلامی۔
17۔در حریم ولایت  آیۃ اللہ اقا نجفی قوچانی۔
18۔زیارت جامعہ استاد فاطمی نیا۔
19۔حبل المتین ایۃ اللہ سید محمد ضیاء آبادی۔
20۔ اس زیارت کی بہترین شرح  فیلسوف و عارف آیۃ اللہ شیخ عبد اللہ جوادی آملی نے " ادب فنای مقربان " کے نام سے تألیف کی ہے ۔

زیارت جامعہ کبیرہ اور جوشن کبیر 
آیۃ اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں: زیارت جامعہ کبیرہ، دعائے جوشن کبیر کے ہم پلہ ہے جو وزن و مقام اس دعا کا ہے وہی وزن زیارت جامعہ کا ہے  جس طرح دعائے جوشن کبیر میں اللہ کے اسماء و صفات کے ہزار جلوے  ہیں تاکہ بندہ  خدا کے کمالات کا ہزار آنکھوں سے مشاہدہ کرسکے اور اسکی معرفت میں اضافہ ہو بالکل اسی طرح زیارت جامعہ میں ائمہ علیہم السلام کے مختلف جلوے پیش کئے گئے تاکہ زائر مختلف دریچوں سے ائمہ کی عظمت کا مشاہدہ کرسکے پھر ان کو اپنا آئیڈیل بناکر انکی تأسی کرسکے بعبارت دیگر دعائے جوشن کبیر  ایسا وسیع دسترخوان ہے جس پر ہزار قسم کی توحیدی غذائیں چنی ہوئیں ہیں زیارت جامعہ بھی امام شناسی کی مختلف غذائوں سے چنا ہوا دسترخوان ہے۔ جس سے زائر کی مھمان نوازی کی گئی ہے۔

زیارت جامعہ کےمفاہیم اور ان مختصر تشریح
زیارت جامعہ کا شمار طولانی ترین زیارتوں میں ہوتا ہے شارحین نے زیارت جامعہ کو مطالب کے اعتبار سے کئی حصوں میں تقسیم کیاہے۔ جس میں زیارت کا ایک چوتھائی حصہ امام شناسی سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں مقام امامت کو مختلف پہلؤوں سے پہچنوایا گیا ہے ۔اس میں کہیں  ائمہ معصومینؑ کے اخلاق و خصائل کا ذکر ہے تو کہیں انکی عملی سیرت اور راہ ہدایت میں پیش آنے والی مصیبت و مشکلات کا ذکر اور کہیں پر دنیا جہان میں انکے مقام و مرتبہ کو بتایا گیا ہے کہ اہلبیت، کائنات کی خلقت کا سبب اور مقصد ہیں اوربعض مقامات پر انکی تکوینی و تشریعی ولایت کا تذکرہ ہے۔ کہ وہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو قرآن اور شریعت محمدی کی تعلیم دی اور علوم اسلامی کو پھیلایا اور کہیں ان کی تبلیغی روش پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خلاصہ یہ کہ زیارت جامعہ میں ائمہ کے اتنے  زیادہ فضائل و مناقب بیان ہوئے ہیں کہ کس کس کا ذکر کیا جائے،امام شناسی کے علاوہ زیارت جامعہ میں خداکی وحدانیت رسول کی رسالت اور ائمہ معصومین کی ولایت کا اقرار ہے اس زیارت کے ایک حصے میں ائمہ معصومین کے ساتھ امت کے سلوک اور اس کے نتائج  کا بیان ہے اور  اس زیارت کا ایک اہم پہلو  شیعہ زائر کی خصوصیات کے بیان سے متعلق ہے اس کے علاوہ اس زیارت میں دو قرآنی دعاؤں کی جانب اشارہ کیا گیاہے اور اسی کے ساتھ زائر کی زبانی دعا کا  ایک سلسلہ ہے جس میں زائر خدا سے امام اور حقوق امام کی شناخت کی توفیق طلب کرتا ہے اور دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگتا ہے یہاں ہم اس زیارت کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور توضیح قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
زیارت،مذہب کی ترویج اورزائر کی ہدایت وتربیت میں بےحد مؤثر ہے چاہے وہ عقائد و افکار ہوں یا زائر کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ہو مختصر یہ کہ زیارت انسان اور انسانی سماج کی ہدایت اور تربیت میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ عقائد کسی بھی مکتب کی بنیاد ہوتے ہیں اگر عقائد درست اور کامل ہوں تو وہ انسان کی زندگی کو معنی دار بناسکتے ہیں، اسے جہت دے سکتے ہیں، اس کے  اندر جینے کی امید اور آرزو جگا سکتے ہیں اور اسے کمال اور ترقی کی جانب حرکت دے سکتے ہیں۔

1:ولایت اور توحید کا باہمی ربط  
اسلام اور خاص طور سے مکتب تشیع جو اسلام حقیقی کی مکمل تصویر ہے اس مکتب میں ولایت و امامت کو خاص اہمیت حاصل ہے اتنی زیادہ اہمیت کہ اگر کوئی اپنے وقت کے امام کی معرفت کے بغیر اس دنیا سے چلا جائے تو گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ۔ اسلام کی بنیاد ہی ولایت پر رکھی گئی ہے جیسا کہ رویات میں وارد ہوا ہے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے نماز،زکات، روزہ، حج اور ولایت۔  ان میں جتنی اہمیت ولایت کو دی گئی کسی اور رکن کو نہیں دی گئی اس لئے کہ ولایت اسلام کی حفاظت اور صراط مستقیم پر لوگوں کی ہدایت کی ضامن ہے اور انہیں منزل سعادت سے ہمکنار کرتی ہے۔ جو فرقے امامت و ولایت سے منحرف ہوگئے ،دیکھئے وہ جدید مسائل کے حل میں کتنے عاجز اور شخصی آراء میں کس حد تک گرفتار ہیں۔ ولایت کے  بغیر توحید بھی نامکمل ہے اس لئے کہ  ظالموں اور طاغوتوں کی ولایت میں توحید کی حاکمیت بے معنی ہے۔
چنانچہ حدیث سلسلۃ الذہب میں امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا کہ " لا الہ الااللہ  میرا قلعہ ہے اور جومیرے قلعے میں داخل  ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا" کچھ دور جانے کے بعد امام ؑنے پھر فرمایا: وہ توحید جو انسان کو عذاب خداوندی سے محفوظ رکھتی ہے اس کی چند شرطیں ہیں اور ان جملہ شرائط میں سے ایک شرط ائمہ علیہم السلام کی ولایت و امامت کا اقرار اور اس کا عقیدہ بھی ہے ۔

ائمہ کی زیارت سے امامت وولایت کے بنیادی عقیدےکو تقویت ملتی ہے۔ زائر، زیارت میں بارہ اماموں کی ولایت کو یاد کرتا ہےاور ان کے ساتھ عہد ولایت باندھتا ہے ہمارے اکثر زیارت ناموں کا محور یہی مباحث ہیں جس میں زائر اپنے امام کو مختلف صفات سے یاد کرتا ہے انہیں اپنا امام اور اپنے لیئے نمونہ عمل مانتا ہے اور ان کی اطاعت و پیروی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کا عہدکرتاہے۔زائر یہ آرزو کرتا  ہے اے کاش! میں آپ کے ساتھ ہوتا اور آپ کے رکاب میں حرکت کرتا۔ابھی بھی میں منتظر ہوں کہ آپ کی حکومت حقہ قائم ہو تاکہ میں آپ کی مدد اور نصرت کیلئے آگے بڑھوں اور اسلام کے نفاذ میں آپ کا ساتھ دوں ۔چنانچہ زیارت جامعہ میں بھی زائر توحید و نبوت اور ولایت کی شہادت دیتا ہے اور مختلف پہلوؤں سے امام کی توصیف و تمجید کرتا ہے جہاں یہ زیارت اپنے امامؑ کی خدمت میں اپنی محبت کا اظہار ہے وہیں امام ہادیؑ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ امامؑ کی حقیقی شناخت کا باعث ہیں یہی وجہ ہے کہ زیارت کے اختتام پر زائر امامؑ کی عظمت کے آگے تسلیم ہوکرپھر ایک بار اپنے امامؑ سے عہد ولایت باندھتا ہے :

توحید کی گواہی 
أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ کَمَا شَهِدَ اللَّهُ لِنَفْسِهِ وَ شَهِدَتْ لَهُ مَلائِکَتُهُ وَ أُولُوا الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِهِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ" "
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ،جس طرح اس نےخود اپنی ذات پر گواہی دی ہے ۔ فرشتوں اور صاحبان علم نے  گواہی دی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ عزت و حکمت والا ہے۔

رسالت کیگواہی 
 وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدا عَبْدُهُ الْمُنْتَجَبُ وَ رَسُولُهُ الْمُرْتَضَى أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَ دِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ کُلِّهِ وَ لَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ
اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے برگزیدہ  بندے اور  منتخب رسول ہیں ۔ان کو ہدایت اور دین کے ساتھ مبعوث فرمایا ،تاکہ انہیں تمام ادیان پر غلبہ عطا کرے گرچہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار گذرے۔

امامت کیگواہی 
وَ أَشْهَدُ أَنَّکُمُ الْأَئِمَّةُ الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ الْمُصْطَفَوْنَ الْمُطِیعُونَ لِلَّهِ الْقَوَّامُونَ بِأَمْرِهِ الْعَامِلُونَ بِإِرَادَتِهِ الْفَائِزُونَ بِکَرَامَتِهِ اصْطَفَاکُمْ بِعِلْمِهِ۔۔۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ پیشوا اور رہنما، ہدایت یافتہ، معصوم، کریم، مقرب بارگاہ، پرہیزگار، صادق ، برگزیدہ، احکام خدا پر ثابت قدم،  فرمانبردار، اس کے اشارے پرچلنے والے ، عظمتوں کے حامل، خدا کے علم غیب کے رازدار ہیں۔

2:اولیائے خدا کی ولایت خدا کی ولایت ہے 
مَنْ وَالاکُمْ فَقَدْ وَالَى اللَّهَ وَ مَنْ عَادَاکُمْ فَقَدْ عَادَى اللَّهَ وَ مَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ [وَ مَنْ أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ‏] وَ مَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللَّه
ِ جس نے آپ کو دوست رکھا اس نے خدا کو دوست رکھا ، جس نے آپ کو دشمن بنایا اس نے اللہ کو اپنا دشمن بنایا ۔ جو آپ سے محبت کرے وہ خدا سے محبت کرتا ہے ، جو آپ سے بغض و کینہ رکھے وہ خدا سے بغض و کینہ رکھتا ہے ۔ اور جس نے آپ سے تمسک اختیار کیا اس نے خدا سے تمسک اختیار کیا ۔

3: معاد،برزخ اور قیامت کاعقیدہ 
 مسئلہ معاد اورعالم آخرت، تمام الٰہی ادیان کے اصولی مسائل میں سے ہے  اس عقیدے کا انسانی زندگی پر گہرا نقش ہے ۔ موت کے بعد عالم آخرت کا عقیدہ انسان کو بے ہدف وبے مقصد اور لا ابالی پن سے نکال کر اس کی دنیاوی زندگی کو ہدف دار بناتا ہے۔ اگر انسان کی زندگی میں آخرت کا  عقیدہ نہ ہو اور موت کے بعد حساب و کتاب اور جنت و جہنم کا یقین نہ ہو تو ایسے انسان کی زندگی حیوان سے پست اور بے نتیجہ ہوگی ۔یہی عقیدہ ہے جو انسان کی زندگی کو معنی بخشتا ہے  اور اسے صحیح سمت دکھاتا ہے  تاکہ وہ صرف دنیا کی چند روزہ مادی زندگی کیلئے اپنی ساری قوتیں صرف نہ کرے بلکہ اپنے آپ کو عالم آخرت کیلئے تیار کرے تاکہ موت کے بعد جو ابدی زندگی نصیب ہونے والی ہے وہ کمال کے انتہائی عروج پر ہو۔
دوسری طرف یہ اعتقاد حیوانی شہوتوں کو قابو میں کرنے اور انسان کی سرکشی کو روکنے میں خاص کردار ادا کرتا ہے چونکہ جب وہ یہ عقیدہ رکھے گا کہ  اسے دوسری  دنیا میں اللہ  کی عدالت کا سامنا کرنا اور اپنے اچھے اور برے اعمال کا نتیجہ دیکھنا  ہے تو ایسی صورت میں اس کی کوشش یہی ہوگی کہ برائی کی جانب قدم بڑھانے سے پیچھے ہٹے گا یا اب تک جو خطائیں اس سے سر زد ہوئیں ہیںاس سے پشیمان ہوکر توبہ کرے گا ۔
ہرزائر عقیدہ معاد رکھتا ہے  کیونکہ جو عقیدہ معاد نہ رکھے وہ زائر ہی نہیں ہوسکتا،  نہ اپنے امام سے شفاعت کی درخواست کرسکتا ہے بلکہ جو زائر اس عقیدے کے ساتھ زیارت کیلئے آتا ہے  ائمہ کے مزار پر اس کے اس عقیدہ کو اور تقویت ملتی ہے اور جتنا یہ عقیدہ راسخ ہوگا اتناہی اس کا  تربیتی اثر گہرا ہوگا ۔
اسی سے اندازہ ہوجاتا ہے زیارت انسان کے ضمیر کو بیدار کرنے اور اسے سفر آخرت کیلئے آمادہ کرنے میں کس حد تک مؤثر ہے ۔

4۔ائمہ کے فضائل و مناقب 
زائر اپنے معتقدات کو امامؑ کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ امام کے فضائل و مناقب  کو دہراتا ہے تاکہ معرفت امام میں اضافہ ہواور ائمہ کے امت پر احسان کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے:
الف۔السَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَ مَوْضِعَ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفَ الْمَلائِکَةِ وَ مَهْبِطَ الْوَحْیِ وَ مَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَ خُزَّانَ ۔۔۔ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکَاتُهُ
سلام ہو تم پر اے خاندان نبوت، مرکز رسالت، فرشتوں کی آماجگاہ،وحی کی منزل، معدن رحمت ، علم خدا کے خزانہ دار ، حلم و بردباری کے نقطہ آخر ، شرافتوں کی اصل ، امت کے پیشوا ، نعمتوں کے مالک، اچھائیوں کی اساس، خوبیوں کے ستون، بندگان خدا کے سرپرست، شہروں کی پناہ گاہ، ایمان کے دروازے، خدا کے امانتدار، خلاصہ پیغمبران ، انتخاب رسولان، کائنات کے برگزیدہ پیغمبر کی ذریت خدا کی نعمتیں اور برکتیں ہو ں آپ پر ۔

ب۔ أَنْتُمُ الصِّرَاطُ الْأَقْوَمُ [السَّبِیلُ الْأَعْظَمُ‏] وَ شُهَدَاءُ دَارِ الْفَنَاءِ ۔۔۔
آپ ہیں اللہ کا سیدھا راستہ، دنیائے فانی میں گواہ اور جہان آخرت میں شفاعت کرنے والے، پیہم و مسلسل رحمت، اللہ کی وہ نفیس نشانی جس کی حفاظت کی جاتی ہے ،محفوظ امانت اور وہ دروازہ جہاں لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے ۔
ج۔فَبَلَغَ اللَّهُ بِکُمْ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمِینَ و۔۔۔۔
خداوند عالم نے شرفاء کی بہترین جگہوں ، مقربان بارگاہ کے اعلی درجات اور رسولوں کی بلند منزلوں تک آپ کو پہنچایا جہاں پہنچنے والے اس پر سبقت نہیں حاصل کر سکتے اور لالچی اس کی طمع نہیں کر سکتے ۔

د۔ لا أُحْصِی ثَنَاءَکُمْ وَ لا أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ کُنْهَکُمْ وَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ہمارے آقا !میں  آپ کی ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، آپ کی مدح کی حقیقت تک نہیں پہونچ سکتا۔ آپ کے صفات کا اندازہ نہیں کر سکتا، آپ اچھوں کے نور ، نیکوکاروں کے رہنما اور خداوند جبار کی حجت ہیں ۔ خدا نے آپ ہی سے ابتدا کی ہے اور آپ ہی پر اختتام کرے گا ۔ آپ ہی کی بنا پر بارش ہوتی ہے ۔ آپ ہی کے سبب آسمان زمین پر پھٹ نہیں پڑ رہا مگر اس کی اجازت سے ،  خدا آپ ہی کے ذریعہ غم کو برطرف کرتا اور سختیوں کو دور کرتا ہے ۔ وہ تمام چیزیں جو پیغمبران الہی اور فرشتے لائے ہیں وہ سب آپ کے پاس ہیں ۔

ہ:"ذِکْرُکُمْ فِی الذَّاکِرِینَ وَ أَسْمَاؤُکُمْ فِی الْأَسْمَاءِ وَ أَجْسَادُکُمْ فِی الْأَجْسَادِ وَ أَرْوَاحُکُمْ فِی الْأَرْوَاحِ وَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
جب یاد کرنے والوں کی زبان پر آپ کا تذکرہ ہو ، تمام ناموں میں آپ کے نام پر فدا ، تمام جسموں میں آپ کے اجسام پر فدا ، تمام روحوں میں آپ کی ارواح پر اور تمام نفسوں میں آپ کے نفوس پر فدا ، تمام آثار پر اور تمام قبروں میں آپ کی قبروں پر فدا ۔ کتنی مٹھاس ہے آپ کے نام میں ، کتنے محترم ہیں آپ کے نفوس ، کتنی عظیم ہے آپ کی شان ، کتنی بلند ہے آپ کی منزل، کتنا با وفا ہے آپ کا عہد و پیمان اور کتنا سچا ہے آپ کا وعدہ، آپ کا کلام نور ، آپ فرمان ہدایت ، آپ کی نصیحت تقوٰی ، آپ کا کام کار خیر، آپ کی روش نیکی ، آپ کی خصلت کرم، آپ کی شان حق، صدق و احسان ، آپ کی گفتار مستحکم ، آپ کی رائے علم و بردباری و عقل مندی ۔ اگر نیکیوں کا تذکرہ ہو تو آپ ہیں اس کی ابتدا ، اس کی  اصل ، اس کی شاخ ، اس کے معدن، اس کا مرکز اور اس کی انتہا ۔

و: وَ بِکُمْ أَخْرَجَنَا اللَّهُ مِنَ الذُّلِّ وَ فَرَّجَ عَنَّا غَمَرَاتِ الْکُرُوبِ وَ أَنْقَذَنَا مِنْ شَفَا جُرُفِ الْهَلَکَاتِ وَ مِنَ النَّارِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔""
آپ کے سبب خدا نے ہم کو ذلت و خواری سے بچایا، سختیوں سے نجات دلائی، قعرمذلت میں ہلاک ہونے اور آتش جہنم میں جلنے سے ہمیں محفوظ رکھا۔

ز: "بِمُوَالاتِکُمْ عَلَّمَنَا اللَّهُ مَعَالِمَ دِینِنَا وَ أَصْلَحَ مَا کَانَ فَسَدَ مِنْ دُنْیَانَا وَ ۔۔۔ الشَّفَاعَةُ الْمَقْبُولَةُ "
خداوند عالم نے آپ کی ولایت اور دوستی کی بنا پرہمیں دین کی تعلیم دی ، ہمارے دنیا کے فاسد شدہ امور کی اصلاح کی، اور آپ کی ولایت و محبت کے سبب کلمہ ایمان مکمل ہوا اور نعمت عظیم ہوئی، جدائی میں محبت و الفت تبدیل ہوئی ۔ آپ کی ولایت اور محبت کی بنا پر واجب عبادتیں قبول ہوتی ہیں، خداوند عالم کے نزدیک آپ کی منزلت معین ، آپ کی عزت بے پناہ ، آپ کی شان عظیم اور آپ کی شفاعت مورد قبول ہے۔

5:  زیارت جامعہ اور مسئلہ تولی و تبری  
وَ هَلَکَ مَنْ عَادَاکُمْ وَ خَابَ مَنْ جَحَدَکُمْ وَ ضَلَّ مَنْ فَارَقَکُمْ وَ ۔۔۔ مَنْ رَدَّ عَلَیْکُمْ فِی أَسْفَلِ دَرْکٍ مِنَ الْجَحِیم۔
اور وہ ہلاک ہو گیا جس نے آپ سے دشمنی برتی، جس نے آپ کا انکار کیا وہ نا امید ہو گیا، جو آپ سے جدا ہوا وہ گمراہ ہو گیا، جس نے آپ سے تمسک اختیار کیا وہ کامیاب ہو گیا،جس نے آپ کے دامن میں پناہ لی وہ محفوظ ہو گیا ، جس نے آپ کی تصدیق کی وہ سلامت رہا ، اس نے ہدایت پائی جس نے آپ کا دامن پکڑا جس نے آپ کی پیروی کی جنت اس  کا گھر ہوا ، جس نے آپ کی مخالفت کی وہ جہنم میں گیا ۔ جو آپ کا انکار کرے وہ کافر اور جو آپ سے جنگ کرے وہ مشرک ہے ، جو آپ کی باتوں کو ٹھکرائے اس کا ٹھکانہ جہنم کے پست ترین طبقے میں ہے ۔

د: أُشْهِدُ اللَّهَ وَ أُشْهِدُکُمْ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِکُمْ وَ بِمَا آمَنْتُمْ بِهِ کَافِرٌ بِعَدُوِّکُمْ وَ ۔۔۔ مُبْطِلٌ لِمَا أَبْطَلْتُمْ۔
خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ آپ پر ایمان لایا ہوں اور ان تمام چیزوں پر جن پر آپ ایمان لائے ہیں ، آپ کے دشمنوں سے بیزار ہوں اور ان تمام چیزوں کا انکار کرتا ہوں جن کا آپ انکار کرتے ہیں ۔ آپ کی عظمت کا معترف ہوں اور آپ کے دشمنوں کی گمراہی کا قائل ہوں ، آپ کو دوست رکھتا ہوں اور آپ کے دوستوں کو بھی، آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور ان سے متنفر ہوں ، جس سے آپ کی صلح ہے اسی سے میری بھی صلح ہے، جو آپ سے جنگ کرے اس سے جنگ کرنے پر آمادہ ہوں، جس چیز کی آپ تصدیق کریں اس کی میں بھی تصدیق کرتا ہوں جسے آپ باطل قرار دیں اسے باطل جانتا ہوں۔

6: توسل اور شفاعت
زیارت کا ایک پہلو توسل اور شفاعت ہےجسے  مکتب تشیع میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے گنہ گار انسان کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس اور نا امید  نہیں ہونا چاہئے جو چیز انسان کو اللہ کی رحمت سے امید وار کرتی ہے وہ مسئلہ شفاعت ہے مقربان الہی اللہ ہی کے اذن سے اسکی بارگاہ میں  گنہ گاروں کی شفاعت اور سفارش کرتے ہیں زائر جب ائمہ علیہم السلام  کی زیارت کیلئے جاتا ہے تو ان مقربان درگاہ الہی سے شفاعت کی درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ  کے برگزیدہ اور مقرب بندےاللہ کی  بارگاہ میں میری شفاعت کر یا  پھر وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ  خدایا روز محشر شافعین کی شفاعت میرے  شامل حال ہو کہ دونوں دعاؤںکا نتیجہ ایک ہے۔
توسل بھی معنای  شفاعت سےقریب ہے توسل یعنی اللہکی رحمت اور استجابت دعا کیلئے کسی کو وسیلہ قرار دینا اور اس وسیلے سے اللہ کے نزدیک ہونا قرآن نے خود تعلیم دی ہے کہ ابتغو ا الیہ الوسیلۃ شفاعت و توسل یہ دو مفہوم زیارتناموں میں بہت زیادہ دکھائی دیتے ہیں  اور زائرین شفاعت اور توسل کے ذریعہ اللہ سے نزدیک ہوتے ہیں اور اس طرح انہیں اپنی اصلاح کا موقع مل جاتا ہے ۔ہیں کتنے گنہ گار صرف ائمہ اور اولیائے خدا کی مزار کو دیکھتے ہی اپنے آپ میں تبدیلی محسوس کرتے ہیں اورائمہ کی شفاعت و توسل کی برکت سے عذاب الہی سے نجات پاتے  ہیں ۔زیارت جامعہ میں کئی مقامات پر توسل اور طلب شفاعت کا ذکر ہے جہاں زائر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور ندامت کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور امام سے توسل کرکے طلب حاجات کرتا ہے اور برزخ اور روز محشر میں شفاعت کی درخواست کرتا ہے :
یَا وَلِیَّ اللَّهِ إِنَّ بَیْنِی وَ بَیْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ذُنُوبا لا یَأْتِی عَلَیْهَا إِلا ۔۔۔ وَ کُنْتُمْ شُفَعَائِی فَإِنِّی لَکُمْ مُطِیعٌ۔۔۔
اے ولی خدا یقینا میرے اور خدا کے درمیان ایسے گناہ ہیں جن کی بخشش آپ کی خوشنودی کے بغیر نا ممکن ہے ۔ آپ کو اس کےحقکی قسم جس نے زمین پر آپ کو اپنا راز داں بنایا ، مخلوقات کے امور کی حفاظت آپ کے سپرد کی، آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ۔ میرے گناہوں کو بخشئے ، میری شفاعت فرمائیے کہ میں آپ کا فرمانبردار ہوں۔
اللَّهُمَّ إِنِّی لَوْ وَجَدْتُ شُفَعَاءَ أَقْرَبَ إِلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِهِ الْأَخْیَارِ الْأَئِمَّةِ الْأَبْرَارِ لَجَعَلْتُهُمْ شُفَعَائِی فَبِحَقِّهِمُ الَّذِی أَوْجَبْتَ لَهُمْ عَلَیْکَ
خدایا! اگر میں محمد  ﷺ اور ان کی آل پاک (علیہم السلام ) سے زیادہ کسی اور کو تجھ سے نزدیک اور ان سے زیادہ شفاعت کرنے والا پاتا تو ان کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا اور شفیع قرار دیتا،پس ان کے حق کی قسم جس کو تو نے اپنے لازم کیا ہے ۔

7:اطاعت امام ؑ 
امامؑ اپنی تمام عظمت کے ساتھ امت اسلامی کیلئے چراغ ہدایت اور نمونہ عمل ہیں اس لئے ہر کسی کو چاہئے اپنی توانائی اور طاقت کےمطابق اپنے آپ میں امام ؑکی صفات پید ا کرے اور اپنے آپ کو "امام صفت " بنائے ۔عقیدہ امامت کا یہ پہلوبہت ہی اہم ہےاور زیارتناموں میں یہ عنصر بہت واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ زائر زیارت کی برکت سے یہ ارادہ اور کوشش کرتا ہے کہ خود کو اپنے امام  کا مطیع اور ان کا ہمرنگ اور ہمسو  بنائے ،مختلف زیارتناموں میں یہ تعمیری پہلو موجود ہے جیسا کہ ہم زیارت عاشورا میں پڑھتے ہیں :
"اللھم اجعل محیای محیا محمد و آل محمد و مماتی ممات محمد و آل محمد "
دیکھا آپ نے یہ کلام کتنا واضح اور زندگی ساز ہے اگر ہماری زیارتوں میں یہ پہلو زندہ ہوجائے ہمارے سماج میں ایک عظیم انقلاب آجائے گا  یقینا یہی زیارتیں ہیں جو انسان کے نفس اور اسکی روح کو پاک و پاکیزہ بناتی ہیں اور انسان کو زیارت کے بے شمار ثوابوں کا حقدار بناتی ہیں زیارت جامعہ میں زائر  امام کی سیرت کو بیان کرتے ہوئے ان کو اپنا اسوہ اور آئیڈیل بناتا ہے اور ان الفاظ میں عہد باندھتا ہے:
مُطِیعٌ لَکُمْ عَارِفٌ بِحَقِّکُمْ مُقِرٌّ بِفَضْلِکُمْ ۔۔۔یُمَکِّنَکُمْ فِی أَرْضِهِ
آپ کا فرمانبردار ہوں اور آپ کے حق کا معترف ہوں، آپ کی فضیلتوں کا اقرار کرتا ہوں،آپ کے علوم کا خوشہ چیں ہوں ، آپ کی پناہ گاہ میں پناہ لئے ہوں ، آپ کا معترف ہوں ، آپ کی باز گشت کا قائل ہوں اور آپ کی رجعت کا معتقد ہوں، آپ کے فرمان کا منتظر ہوں، آپ کی حکومت کی تمنا لیے ہوئے ہوں، آپ کی باتوں کو غور سے سنتا ہوں اور آپ کے احکام کی اطاعت کرتا ہوں، آپ ہی سے پناہ کا طالب ہوں، آپ کی زیارت کرنے والا ہوں، آپ کے مزاروں سے متمسک ہوں، خداوند عزوجل کی بارگاہ میں آپ کو شفیع قرار دیتا ہوں اور آپ کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرتا ہوں۔ اپنی ضرورتوں، آرزوؤں، مرادوں اور تمام امور میں آپ کو مقدم کرتا ہوں ، ظاہر و باطن ، حضور و غیاب ،اول و آخر سب حالتوں میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں،تمام امور آپ کو وا گذار کر دیتا ہوں ۔ آپ کے سامنے تسلیم ہوں اور آپ کی نصرت کے لیے آمادہ ہوں ، یہاں تک کہ خدا اپنے دین کو آپ کے ذریعہ حیات نو عطا کرے ، اور اپنی حکومت کے دوران آپ کو اس دنیا میں واپس لائے ،اپنے عدل کے لیے آپ کو ظاہر کرے اور اپنی زمین پر آپ کو قدرت و طاقت عطا فرمائے ۔

8:توبہ اور استغفار 
جب زائر کسی امام کی  زیارت کیلئے جاتا ہے تو  آداب زیارت میں سےایک ادب یہ ہے کہ وہ  اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے زیارت ناموں میں بھی اس کا ذکرموجودہے اور زیارت کا ماحول اور اسکی روحانی فضا انسان کو توبہ اور اللہ کی جانب لوٹنے کیلئےابھارتی ہے اگر یہ پشیمانی اور یہ  توبہ و استغفار سچے دل سے ہو  تو یقینا  زائر گناہوں سے پاک ہوگا اور معنوی مدارج کو طے کرنا اس کیلئے آسان ہوجائے گا۔

9: گریہ 
گریہ  اور اشک شوق کے اسباب اور اسکے فوائد کا بیان اس قلم کی طاقت سے باہر ہے لیکن اتنا جان لیجئے کہ ائمہ معصومین نے  دفاع اسلام میں جن مصائب و مشکلات کا سامنا کیایہ زیارت ان کی یاد کو تازہ کرتی ہے اور جب عشق اہل بیت ؑ سے سرشار زائر اہلبیت پر ٹوٹنے والے  مصائب کا تصور کرتا ہے تو بے ساختہ اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں اور یہ آنسو اس کو اہل بیت ؑسے اور زیادہ نزدیک تر اور اسکی محبت، ولایت اور ایمان کو استوارتر کرتے ہیں یہ گریہ و زاری اور یہ اشک عزا اس  اس کو امام ؑ کی راہ و روش پر گامزن کردیتے ہیں استاد شہید مطہری ؒکے بقول:"شہید پر  بہائے گئے آنسو گریہ کرنے والے کو  اس انقلاب اور اس تحریک کا شریک بنادیتے ہیں " ہمارے ائمہ سے بڑھ کر بھلا  کون شہید ہوگا جو دشمنی اور کینہ کی تلوار  سے یا شربت شہادت سے شہید کردئے  گئے ائمہ کے غم میں  بہنے والے آنسو کبھی محبت اور الفت کا نتیجہ ہوتے ہیں تو کبھی دلسوزی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور کبھییہ اشک محبوب سے شوق وصال میں بہتے ہیں اور کبھیہماری گریہ و زاری اپنے گناہوں سے  پشیمانی کے سبب  ہوتی ہے یہی وہ  مرحلہ ہے جہاں گنہ گار انسان اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے اور یہ قسم کھاتا ہے اب کبھی گناہ کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا ، بہرحال یہ گریہ انسان کو انسان بناتا ہے خاص طور سے امام حسینؑ کے غم میں بہائے جانے والے آنسو  کی جزا جنت ہے اور زیارتناموں میں کم و پیش اس نکتہ کی جانب بھی اشارہ  کیا گیا ہے۔
زیارت کا اثر جہاں عقائد و افکار پر پڑتا ہے لازمی طور پر اسکا اثر انسان کی زندگی کی انفرادی  اور اجتماعی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔

10: ذکر الٰہی اور اور طلب حاجات 
اللہ کا ذکر اور اسکی یاد انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور اسکی ہدایت و تربیت کرتی ہے اسی لئے قرآن میں مومنین کو ذکر کی دعوت دی گئی ہے۔
امام علیؑ دنیا کی محبت کو تمام برائیوں کی جڑ اور اللہ کی یاد کو تمام نیکیوں کی اصل مانتے ہیں۔پس انسان کی توجہ جتنی خدا کی جانب ہوگی اتنا ہی وہ نیکیوں سے نزدیک اور برائیوں سے دور ہوگا اور جواللہ کو حاضر و ناظر  جانے گا وہ گناہوں کی جانب قدم بڑھانے اور واجبات میں کوتاہی سے شرم محسوس کرے گا۔  ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی یاد مومن کے دل میں تقوی، توکل، زہد اور شکرگزاری کا جذبہ جگاتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی  حقیقت ہے  کہ ائمہ کی یاد بھی خدا ہی کی یاد ہے وہ اس طرح   کہ ائمہ معصومین کی یاد اور ان کی سیرت کا تذکرہ اللہ کی یاد میں اضافہ کاباعث بنتا ہے اور ائمہ معصومین کی زیارت انسان کو غفلت   سےنکال کر خدا سے نزدیک کرتی ہے  خاص طور سے اس وقت کہ جب  ہمارا عقیدہ یہ ہو   کہ ہمارے ائمہ ہمارے  افکار و اعمال سے واقف اور ہر پل ہمارے حالات پر ناظر ہیں اور جب ہم ان کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تو ان کی توجہ ہماری جانب ہوتی ہے وہ ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں   یہی وجہ ہے کہ زائر زیارت جامعہ میں پہلے اہلبیت ؑکے وسیلہ سے اللہ سے راہ حق پر ثبات قدم کی دعا ماگتا ہے اور پھر  پروردگار سے مزید ہدایت طلب کرتا ہے:
فَثَبَّتَنِیَ اللَّهُ أَبَدا مَا حَیِیتُ عَلَى مُوَالاتِکُمْ وَ مَحَبَّتِکُمْ وَ دِینِکُمْ وَ ۔۔۔ تَقَرُّ عَیْنُهُ غَدا بِرُؤْیَتِکُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس جب تک زندہ ہوں خداوند عالم مجھے آپ کی ولایت، آپ کے دین اور آپ کی محبت پر ثابت قدم رکھے ، آپ کی اطاعت کی توفیق دے ، آپ کی شفاعت نصیب فرمائے ، مجھے آپ کے ان بہترین دوستوں میں قرار دے جو آپ کے تمام احکام کی پیروی کرتے ہیں، مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں، آپ کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہیں اور آپ کے گروہ میں محشور ہوں گے ، آپ کی رجعت کے دوران دوبارہ زندہ ہوں گے اور آپ کی حکومت میں طاقتور ہوں گے ، آپ کی آسائش کے دنوں میں محترم ہوں گے ، آپ کے اقتدار کے زمانے میں قدرت و منزلت حاصل کریں گے، اور جن کی آنکھیں آپ کے دیدار سے ٹھنڈی ہوں گی ۔۔۔

زیارت جامعہ میں موجود اس قرآنی دعا کے ساتھ یہ مضمون یہیں پر ختم کرتا ہوں :
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِینَ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا
 خدایا ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدانہ کرنا، اپنی رحمتیں ہمارے شامل حال فرما، بے شک تو بہت زیادہ بخشنے والا ہے ، پاک و پاکیزہ ہے ہمارا پروردگار ، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہونے والا ہے ۔

حواله جات:
  الزاء و الواو و الراء أصلٌ واحدٌ یدلُّ علی المیل و العدول. من ذلک الزور: الکذب؛ لأنّه مائلٌ عن طریقة الحقّ... یقال: إزورّ عن کذا: أى مال عنه (مقاییس اللغة، ج 3، ص 36نقل از  ادب فنای مقربان جلد1 -  صفحه 23
  و من الباب: الزائر لأنه إذا زارک فقد عدل عن غیرک
  زاره یزوره زیارةً و زَوراً: قصد فهو زائرٌ (المصباح المنیر، «زور»)
  و الزیارة فى العرف قصد المزور إکراماً له و استیناساً به (سابقہ حوالہ)
  تکاثر /آیات 1-2
  نھج البلاغہ خطبہ 34
  ۔ کامل الززیارات ، باب ۱۰۱
  امثال و حکم، ج 1، ص 268
  مفاتیح الجنان، ص 114 زیارت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) در روز شنبه
  مفاتیح الجنان
  مفاتیح الجنان، زیارت حضرت زھرا سلام اللہ علیھا در روز یکشنبہ
  من لا یحضره الفقیه، ج۲، صص۶۰۹-۶۰۸؛ ، عیون اخبارالرضا(ع)، ج۲، صص۲۷۱-۲۷۸۔
  مفتاح الجنات، ج۲، صص۲۱۸-۲۱۰.
  مفاتیح الجنان، ص۹۱۷
  ۔ بحارالانوار، باب الزیارات الجامعہ ۔
  رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبَرْمَکِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِیُّ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ع عَلِّمْنِی یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَوْلًا أَقُولُهُ بَلِیغاً کَامِلًا إِذَا زُرْتُ وَاحِداً مِنْکُمْ فَقَالَ إِذَا صِرْتَ إِلَى الْبَابِ فَقِفْ وَ اشْهَدِ الشَّهَادَتَیْنِ وَ أَنْتَ عَلَى غُسْلٍ فَإِذَا دَخَلْتَ وَ رَأَیْتَ الْقَبْرَ فَقِفْ وَ قُلْ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ ثَلَاثِینَ مَرَّةً ثُمَّ امْشِ قَلِیلًا وَ عَلَیْکَ السَّکِینَةَ وَ الْوَقَارَ وَ قَارِبْ بَیْنَ خُطَاکَ ثُمَّ قِفْ وَ کَبِّرِ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ ثَلَاثِینَ مَرَّةً ثُمَّ ادْنُ مِنَ الْقَبْرِ وَ کَبِّرِ اللَّهَ أَرْبَعِینَ مَرَّةً تَمَامَ مِائَةِ تَکْبِیرَةٍ ثُمَّ قُلْ‏: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ۔۔۔۔۔
  مفاتیح الجنان ،ترجمہ ناظم علی خیرآبادی ،ص 999
  من لا یحضرہ الفقیہ ،جلد ۲ ،ص 609 مطبوعہ الصدوق تہران (شیخ صدوق  علیہ الرحمہ اس کتاب کی ابتدا ء میں لکھتے ہیں کہ اس کتاب  میں وہی چیزیں لکھ رہا ہوں جس پر فتوی دیتا ہوں اور اپنے اور خدا کے درمیان حجت شرعی جانتا ہوں۔جلد 1 ص ۳ طبع تہران ۔
  عیون اخبار الرضا جلد ۲ ص منشورات اعلمی تہران
  تہذیب الاحکام ،جلد ۲ ص 95 مطبوعہ تہران
  بحار الانوار  جلد 102 ص 144
  روضۃ اللمتقین ، جلد 5 ص 451
  نجم الثاقب صفحہ 343- نقل  از رہبران معصوم صفحہ 656 انتشارات در راہ حق
  مجلہ فرھنگ کوثر شمارہ 3 منبر حرم
  زیارت ، سید محمد حسینی ،ص ۲۱۳۔۲۱۴ ، از منشورات دفتر فرہنگ اسلامی تہران
  ادب فنای مقربان،جوادی آملی ،جلد 1 ص 85 از منشورات اسراء
(بقرہ/152)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں