حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی چالیس احادیثِ مبارکہ
۔ قالَ الإمامُ أبُو مُحَمَّد الْحَسَنِ الْعَسْكَرى (عليه السلام:
1.إنَّ اللهَ تَبارَكَ وَ تَعالى بَيَّنَ حُجَّتَهُ مِنْ سائِرِ خَلْقِهِ بِكُلِّ شَىْء، وَ يُعْطِيهِ اللُّغاتِ، وَمَعْرِفَةَ الاْنْسابِ وَالاْجالِ وَالْحَوادِثِ، وَلَوْلا ذلِكَ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْحُجَّةِ وَالْمَحْجُوحِ فَرْقٌ.1
1. اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی حجت کو ہر شیٔ سے آگاہ بنا کر تمام مخلوقات کے درمیان بھیجا ہے اسے ہر زبان ، تمام انسانوں کے حسب ونسب ، موت کے وقت اور حادثات سے آگاہ کر دیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو حجت اور محجوج میں کوئی فرق ہی نہ رہ جاتا۔
2 ۔ قالَ (عليه السلام): عَلامَةُ الاْيمانِ خَمْسٌ: التَّخَتُّمُ بِالْيَمينِ، وَ صَلاةُ الإحْدى وَ خَمْسينَ، وَالْجَهْرُ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحيم، وَ تَعْفيرُ الْجَبين، وَ زِيارَةُ الاْرْبَعينَ.2
2 ۔ ایمان کی پانچ نشانیاں ہیں: دائیں ہاتھ میں انگشتری پہننا ، اکیاون رکعت نماز پڑھنا، بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا خاک پر سجدہ کرنا اور زیارت اربعین کرنا۔
3 ۔ قالَ (عليه السلام): لَيْسَتِ الْعِبادَةُ كَثْرَةُ الصّيامِ وَالصَّلاةِ، وَ إنَّمَا الْعِبادَةُ كَثْرَةُ التَّفَكُّرِ في أمْرِ اللهِ .(3
3 ۔ زیادہ روزے اور نماز کا نام عبادت نہیں ہے بلکہ عبادت امر الٰہی میں زیادہ سے زیادہ غور وفکر کرنا ہے ۔
4 ۔ قالَ (عليه السلام): خَصْلَتانِ لَيْسَ فَوْقَهُما شَىْءٌ: الاْيمانُ بِاللهِ، وَنَفْعُ الاْخْوانِ.(4
4 ۔ دوصفتوں سے بالاتر کوئی صفت نہیں ہے،اللہ پرایمان رکھنا،دوستوں اور بھائیوں کو فائدہ پہنچانا۔
5 ۔ قالَ (عليه السلام): قُولُوا لِلنّاسِ حُسْناً، مُؤْمِنُهُمْ وَ مُخالِفُهُمْ، أمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَيَبْسِطُ لَهُمْ وَجْهَهُ، وَ أمَّا الْمُخالِفُونَ فَيُكَلِّمُهُمْ بِالْمُداراةِ لاِجْتِذابِهِمْ إلَى الاْيِمانِ.(5
5 ۔ لوگوں سے اچھی طرح بولو چاہے وہ مومن ہوں یا مخالف ، مومنین سے خوشی وانبساط کے ساتھ ملو اور مخالفین سے انھیں ایمان کی کھینچ لانے کے لئے مدارات کرو ۔
6 ۔ قالَ (عليه السلام): اللِّحاقُ بِمَنْ تَرْجُو خَيْرٌ مِنَ المُقامِ مَعَ مَنْ لا تَأْمَّنُ شَرَّهُ.(6
6 ۔ اس شخص سے وابستگی جس سے کسی بھلائی کی امید ہے بہتر ہے اس شخص کے ساتھ رھنے سے جس کے شر سے تم محفوظ نہیں ہو۔
7 ۔ قالَ (عليه السلام): إيّاكَ وَ الاْذاعَةَ وَ طَلَبَ الرِّئاسَةِ، فَإنَّهُما يَدْعُوانِ إلَى الْهَلَكَةِ.(7
7 ۔ خبردار افواہ نہ پھیلاؤ اور ریاست طلبی نہ کرو کہ دونوں کا انجام ہلاکت ہے۔
8 ۔ قالَ (عليه السلام): إنَّ مُداراةَ أَعْداءِاللهِ مِنْ أفْضَلِ صَدَقَةِ الْمَرْءِ عَلى نَفْسِهِ و إخْوانِهِ.(8
8 ۔ دشمنان خدا سے مدارات اپنے اوپر اور اپنے دینی بھائیوں کے اوپر انسان کا بہترین صدقہ ہے ۔
9 ۔ قالَ (عليه السلام): حُسْنُ الصُّورَةِ جَمالٌ ظاهِرٌ، وَ حُسْنُ الْعَقْلِ جَمالٌ باطِنٌ.(9
9 ۔ خو بصورت چہرہ ظاہری جمال ہے اور عقل کا حسن باطنی جمال ہے۔
10 ۔ قالَ (عليه السلام): مَنْ وَعَظَ أخاهُ سِرّاً فَقَدْ زانَهُ، وَمَنْ وَعَظَهُ عَلانِيَةً فَقَدْ شانَهُ.(10
10 ۔ جو اپنے دینی بھائی کو مخفیانہ نصیحت کرتا ہے وہ اس کی زینت بڑھاتا ہے اور جو اسے آشکارا نصیحت کرتا ہے وہ اس کی تحقیر واہانت کرتا ہے۔
11 ۔ قالَ (عليه السلام): مَنْ لَمْ يَتَّقِ وُجُوهَ النّاسِ لَمْ يَتَّقِ اللهَ.(11
11 ۔ جو شخص لوگوں کے سامنے بے باک اور جری ہے وہ اللہ سے بھی نہیں ڈرتا ۔
12 ۔ قالَ (عليه السلام): ما أقْبَحَ بِالْمُؤْمِنِ أنْ تَكُونَ لَهُ رَغْبَةٌ تُذِلُّهُ.(12
12 ۔ مومن کے لئے کتنی بُری بات ہے کہ اسے ایسی چیز میں رغبت ہو جو اسے ذلیل و رسوا کر سکتی ہے ۔
13۔ قالَ (عليه السلام): خَيْرُ إخْوانِكَ مَنْ نَسَبَ ذَنْبَكَ إلَيْهِ.(13
13۔ تمہارا سب سے بہترین دوست اور بھائی وہ ہے کہ جو تمہاری کوتاہیوں کو اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے ۔
14۔ قالَ (عليه السلام): ما تَرَكَ الْحَقَّ عَزيزٌ إلاّ ذَلَّ، وَلا أخَذَ بِهِ ذَليلٌ إلاّ عَزَّ.(14
14۔ کسی عزت دار نے حق کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ وہ ذلیل ہوا اور کسی ذلیل و رسوا نے حق کا دامن نہیں پکڑا مگر یہ کہ وہ عزت دار ہوگیا۔
15۔ قالَ (عليه السلام): مِنَ الْفَواقِرِ الّتى تَقْصِمُ الظَّهْرَ جارٌ إنْ رأى حَسَنَةً أطْفَأها وَ إنْ رَأى سَيِّئَةً أفْشاها.(15
15۔ کمر شکن مصیبتوں میں سے ایک وہ پڑوسی ہے کہ جو کوئی نیکی دیکھتا تو اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر کسی برائی کو دیکھ لیتا ہے تو اسے پھیلادیتا ہے۔
16 ۔ قالَ (عليه السلام) لِشيعَتِهِ: أوُصيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالْوَرَعِ فى دينِكُمْ وَالاْجْتِهادِ لِلّهِ، وَ صِدْقِ الْحَديثِ، وَأداءِ الاْمانَةِ إلى مَنِ ائْتَمَنَكِمْ مِنْ بِرٍّ أوْ فاجِر، وِطُولِ السُّجُودِ، وَحُسْنِ الْجَوارِ.(16
16 ۔ حضرت(ع) نے اپنے شیعوں سے فرمایا:کہ می تمہیں تقوائے الٰہی اختیار کرنے اور دین کے معاملہ میں نہایت پرہیزگاری برتنے اور اللہ کے لئے بھر پور کوشش کرنے سچ بات بولنے اور جس نے تمہارے پاس امانت رکھی ہے اچھاہو یا بُرا ہو امانت ادا کرنے طولانی سجدہ کرنے اور بہترین پڑوسی بننے کی سفارش کرتا ہوں۔
17۔ قالَ (عليه السلام): مَنْ تَواضَعَ فِى الدُّنْيا لاِخْوانِهِ فَهُوَ عِنْدَ اللهِ مِنْ الصِدّيقينَ، وَمِنْ شيعَةِ علىِّ بْنِ أبى طالِب (عليه السلام)حَقّاً.(17
17۔ جو دنیا میں اپنے دینی بھائیوں کے لئے انکساری کرتا ہے وہ اللہ کے نزدیک صدیقین میں سے ہے اور وہی حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا حقیقی شیعہ ہے۔
18 ۔ قالَ (عليه السلام): إنَّهُ يُكْتَبُ لِحُمَّى الرُّبْعِ عَلى وَرَقَة، وَ يُعَلِّقُها عَلَى الْمَحْمُومِ: «يا نارُكُونى بَرْداً»، فَإنَّهُ يَبْرَءُ بِإذْنِ اللهِ.(18
18 ۔ تب کے مریض کی خاطر ایک کاغذ پر’’یانار کونی برداً‘‘ لکھ کر اس کے اوپر لٹکا دو تو وہ حکم خدا سے شفا پاجائے گا۔
.19 قالَ (عليه السلام): أكْثِرُوا ذِكْرَ اللهِ وَ ذِكْرَ الْمَوْتِ، وَ تَلاوَةَ الْقُرْآنِ، وَالصَّلاةَ عَلى النَّبىِّ (صلى الله عليه وآله وسلم)، فَإنَّ الصَّلاةَ عَلى رَسُولِ اللهِ عَشْرُ حَسَنات.(19
.19 ذکر خدا ، یاد موت، تلاوت قرآن ، اور نبی (ص) پردرود کثرت سے بھیجو کہ رسول خدا (ص) پر درود دس نیکی کے برابر ہے ۔
20 ۔ قالَ (عليه السلام): إنَّكُمْ فى آجالِ مَنْقُوصَة وَأيّام مَعْدُودَة، وَالْمَوْتُ يَأتي بَغْتَةً، مَنْ يَزْرَعُ شَرّاً يَحْصَدُ نِدامَةً.(20
20 ۔ تم سب کم ہوتی جارہی مدت حیات اور گھٹتے جارہے ایام زندگانی کے اسیر ہو موت یکایک آجائے گی جو شر بوئے گا وہ شرمندگی کا پھل کاٹے گا۔
21 ۔ قالَ (عليه السلام): إنّ الْوُصُولَ إلَى اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ سَفَرٌ لا يُدْرَكُ إلاّ بِامْتِطاءِ اللَّيْلِ.(21
21 ۔ قرب خدا تک رسائی ایسا سفر ہے جسے شب بیداری کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔
22 ۔ قالَ (عليه السلام): الْمَقاديرُ الْغالِبَةِ لا تُدْفَعُ بِالْمُغالَبَةِ، وَ الاْرْزاقُ الْمَكْتُوبَةِ لا تُنالُ بِالشَّرَهِ، وَ لا تُدْفَعُ بِالاْمْساكِ عَنْها.(22
22 ۔ ظہور پذیر ہونے والی تقدیروں کو زیرکی و ہوشیاری کے ذریعہ دفع نہیں کیا جاسکتا۔ اور مقدر کے لکھے رزق سےزیادہ کو حرص وطمع کے ذریعہ نہیں پایا جاسکتا ، اور نہ ہی رکاوٹ کھڑی کر کے اسے دفع کیا جا سکتا ہے ۔
23 ۔ قالَ (عليه السلام): قَلْبُ الاْحْمَقِ فى فَمِهِ، وَفَمُ الْحَكيمِ فى قَلْبِهِ.(23
23 ۔ بے وقوف کادل اس کے منھ میں ہوتا ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے۔
۲۴۔مومن دوسرے مومن کے لئے باعث بر کت اور کافر کے لئے حجت ہے ۔
۲۵۔رزق کی ضمانت تمہیں واجب عمل پر سے باز نہ رکھے۔
۲۶۔بچپنے میں بچے کی باپ کے اوپر جرأت بڑے ہونے پر اس کے عاق ہونے کا سبب بنتی ہے۔
۲۷۔دعا نماز ظہر وعصر کو(اول وقت)ملا کر پڑھو تو اپنے مقاصد کو پوراہوتا ہوا دیکھو گے۔
۲۸۔سب سے بڑا پرہیزگار شبہ کے وقت ٹھہرجانے والا شخص ہے سب سے بڑا عبادتگذار واجب ادا کرنے والا شخص ہے سب سے بڑا پارسا حرام چھوڑدینے والا شخص ہے سب سے بڑا مجتہد محنتی گناہوں کو چھوڑ دینے والا شخص ہے ۔
۲۹۔نعمت کی معرفت نہیں رکھتا مگر شکرگزار اور نعمت کا شکریہ ادا نہیں کرتا مگر نعمت کی معرفت رکھنے والا۔
۳۰۔نہ بخشے جانے والوں گناہوں میں سے انسان کا یہ جملہ ہے :اے کاش! مجھے صرف اسی گناہ کی سزا ملتی ۔
۳۱۔ سب سے بُرا بندہ وہ بندہ ہے کہ جس کے دو زبان اور دو چہرہ (یعنی منافق) ہوتا ھے وہ سامنے اپنے دینی بھائی کی تعریف کرتا ہے اور غیاب میں اس کو کھاتا ہے (اس کی غیبت کرتا ہے )اس کو کچھ عطا ہوتا ہے تو یہ اس سے حسد کرتا ہے اور وہ محروم ہوتا ہے یا کسی بلا میں مبتلا ہو تا ہے تو اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔
۳۲۔انکساری یہ ہے کہ انسان جس کسی کے پاس سے گذرے اس پر سلام کرے ۔ اور جہاں جگہ مل جائے بیٹھ جائے۔
۳۳۔جہاں جگہ مل جائے وہاں بیٹھ جانے والے شخص پر خدا اور اس کے ملائکہ اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ وہاں سے اٹھ نہ جائے۔
۳۴۔ فخر ومباہات نہ کرو ورنہ تمہاری قدر گھٹ جائے گی، مزاح نہ کرو کہ لوگ تم پر جری ہو جائیں گے۔
۳۵۔جو شخص اپنے دینی والدین(حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام) کی پیروی کو اپنے نسبی والدین پر مقدم کرے تو خداوند متعال اس سے خطاب کرکے فرماتا ہے:جس طرح تونے میرے حکم کو مقدم کیا ہے میں بھی تجھے (نیکی میں)مقدم کروں گا اور تجھے تیرے دینی والدین کا ہم نشین بناؤں گا جس طرح کہ تو نے ان دونوں کی محبت کو اپنے نسبی والدین کی محبت پر مقدم کیا ہے۔
۳۶۔غمگین کے سامنے اظہار خوشی بے ادب ہے۔
۳۷۔جس کی طرز زندگی میں تقویٰ وپرہیزگاری ، طبیعت میں بزرگواری اور عادت میں حلم و بردباری پائی جائے گی اس کے دوست زیادہ اور مدح وثنا کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔
۳۸۔اپنے دینی بھائیوں کے حقوق کی زیادہ سے زیادہ معرفت رکھنے والا اور انھیں بھر پور طریقے سے اداکرنے والا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت وشان کامالک ہے ۔
۳۹۔خدا سے ڈرو اور (ہمارے لئے) زینت کا باعث بنو۔ ذلت کا سبب نہ بنو، لوگوں کو ہم سے دوستی و محبت پیدا کرنے کی طرف جذب کرو اور ہم سے ہر قسم کی بری شیٔ کو دور رکھو اس لئے کہ کوئی بھی اچھائی ہمارے بارے میں ذکر نہیں کی جاتی مگر یہ کہ وہ ہم میں پائی جاتی ہے اور ہر برائی ہم سے دور ہے۔
۴۰۔ہمارے شیعہ علماء جنھوں نے ہمارے کمزور چاہنے والوں اور ہماری ولایت کے قائل لوگوں کی سرپرستی اور ان کی مشکلات کو دور کیا ہے وہ بروز قیامت اس حال میں وارد محشر ہوں گے کہ ان کے سروں پر تاج کرامت ہوگا اس سے نکلنے والے نور محشر کے ہر گوشے کو منور کردے گا ان انوار کی پہنچ تین ہراز سال کی مسافت تک ہوگی۔
منابع و مآخذ
[1] - اصول كافى: ج 1، ص 519، ح 11.
[2] - حديقة الشّيعة: ج 2، ص 194، وافى: ج 4، ص 177، ح 42.
[3] - مستدرك الوسائل:ج 11، ص 183، ح 12690.
[4] - تحف العقول: ص 489، س 13، بحارالأنوار: ج 75، ص 374، ح 26.
[5] - مستدرك الوسائل: ج 12، ص 261، ح 14061.
[6] - مستدرك الوسائل: ج 8، ص 351، ح 5، بحارالأنوار: ج 71، ص 198، ح 34.
[7] - بحارالأنوار: ج 50، ص 296، ضمن ح 70.
[8] - مستدرك الوسائل: ج 12، ص 261،س 15، بحارالأنوار: ج 75، ص 401، ضمن ح 42.
[9] - بحارالأنوار: ج 1، ص 95، ح 27.
[10] - تحف العقول: ص 489 س 20، بحارالأنوار: ج 75، ص 374، ح 33.
[11] - بحارالأنوار: ج 68، ص 336، س 21، ضمن ح 22.
[12] - تحف العقول: ص 498 س 22، بحارالأنوار: ج 75، ص 374، ح 35.
[13] - بحارالانوار: ج 71، ص 188، ح 15.
[14] - تحف العقول: ص 489، س 17، بحارالأنوار: ج 75، ص 374، ح 24.
[15] - بحارالأنوار: ج 75، ص 372، ح 11.
[16] - أعيان الشّيعة: ج 2، ص 41، س 30، بحارالأنوار: ج 75، ص 372، ح 12.
[17] - احتجاج طبرسى: ج 2، ص 517، ح 340، بحارالأنوار: ج 41، ص 55، ح 5.
[18] - طب الائمّه سيّد شبّر: ص 331، س 8.
[19] - بحارالأنوار: ج 75، ص 372، س 21، ضمن ح 12.
[20] - أعيان الشّيعة: ج 2، ص 42، س 2، بحارالأنوار: ج 75، ص 373، ح 19.
[21] - أعيان الشّيعة: ج 2، ص 42، س 29، بحارالأنوار: ج 75، ص 380، س 1.
[22] - أعلام الدّين: ص 313، س 3، بحارالأنوار: ج 75، ص 379، س 18.
[23] - تحف العقول: ص 489، س 8، بحارالأنوار: ج 75، ص 374، ح 21.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں